Express News:
2026-07-24@02:24:56 GMT

گل پلازہ: راکھ کے ڈھیر سے سوالات کی چنگاریاں

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

گل پلازہ جاں بحق 40 افراد کی شناخت کے امکانات ختم ہوگئے۔ گل پلازہ اینٹوں کا ڈھانچا نہیں رہا، وہ راکھ کا ڈھیر ہے جس کی چنگاریوں سے سوال نکل رہے ہیں، چیختے ہوئے، چنگھاڑتے ہوئے۔ 40 انسان جو پگھل گئے، جن کی شناخت کے امکانات ختم ہوگئے۔ یہ وہ جملہ یا سرکاری بیانیہ جو ماں کی امید کو، باپ کے انتظارکو اور بچوں کے مستقبل کو دفن کردیتا ہے۔

گل پلازہ جلتا رہا، دھوئیں نے راستے نگل لیے، سیڑھیاں بے وفا ہوگئیں، اندر موجود لوگ شاید آخری سانس تک کسی معجزے کے منتظر رہے مگر نظام ابھی راستے میں تھا۔ ورثا جو احتجاج کر رہے ہیں، جس میں نعرے نہیں آنسو ہیں، دل کی دھڑکن ہے، سندھ کابینہ نے فی کس ایک کروڑ روپے معاوضے کی منظوری دی ہے۔ یہ ریاستی انتظام ہے، ریاست کی طرف سے مرہم رکھنے کی کوشش ہے۔

گل پلازہ حادثہ نہیں تھا، یہ غفلت کا انجام تھا، یہ فائلوں میں دبی اجازتوں کی سزا تھی۔ گل پلازہ کی راکھ کا ہر ذرہ پوچھ رہا ہے، اگلی باری کس کی ہوگی؟ کیونکہ اس راکھ سے اٹھتی چیختی چلاتی چنگھاڑتی ہوئی سوالوں کی چنگاریاں جلد بجھ جائیں گی۔ ہر راکھ کی چنگاری سے ایک ہی سوال دھاڑے گا، اب اگلا گل پلازہ کون سا ہوگا؟ کیونکہ راکھ محض جلی ہوئی چیز نہیں ہوتی، یہ گواہ ہوتی ہے، یہ چیخوں کو یاد رکھتی ہے۔ یہ آخری لمس سنبھال کر رکھتی ہے۔

گل پلازہ وہ منظر نہیں بھولے گا، جب کوئی ماں بیٹے کی تصویر سینے سے لگائے بیٹھی تھی یا کوئی بچہ بار بار پوچھ رہا تھا، امی کب آئے گی؟ یہ سوال صرف بچے کا نہیں، اب ہر ایک کی زبان پر ہو کہ آخر اس کی ماں کیوں نہ آ سکی۔

بے شمار سوالات اپنی جگہ موجود ہیں،گل پلازہ ہی نہیں بے شمار عمارتیں ایسی ہیں جہاں قانون کاغذ پر ہے مگر عمل میں نہیں۔ جہاں جان کی قیمت کرائے سے کم سمجھی گئی۔ عمارت کلیئر ہوگئی، ملبہ ہٹا دیا گیا، کیا ذمے داری بھی ہٹا دی گئی؟ یہ سوال ہر اس عمارت سے اٹھتے ہیں جہاں آگ سے بچنے کا کوئی نظام نہیں۔ پاکستان بھر میں بے شمار بلڈنگز ایسی ہوں گی جہاں انسپکشن رسمی کارروائی سمجھ کر ٹال دی جاتی ہے اور مٹھی گرم کردی جاتی ہے، لیکن اب گل پلازہ کی راکھ کچھ کہنا چاہتی ہے۔ راکھ یاد دلانا چاہتی ہے، اگر آج بھی رسمی کارروائی سمجھ کرکارروائی نہ کی گئی تو کل کوئی اور عمارت کسی اور نام سے اسی انجام سے دوچار ہو گی۔ گل پلازہ اب ماضی نہیں رہا یہ مستقبل کا انتباہ ہے۔ یہ کالم پڑھنے کے لیے نہیں ہے، سوال اٹھانے کے لیے ہے، جوابات مانگنے کے لیے ہے،کیونکہ اگر راکھ سے اٹھنے والی یہ چیختی چنگھاڑتی سوالات کی چنگاریاں بھی بجھا دی گئیں تو آگ اسی طرح لگتی رہے گی۔

گل پلازہ کے راکھ کے ڈھیر نے بہت سی گواہیاں دی ہیں کیونکہ اس نے بہت کچھ دیکھا ہے۔ وہ چیخ جو سیڑھیوں میں دم توڑ رہی تھی، وہ ہاتھ جو دروازہ بجاتے بجاتے خاموش ہوگیا ہو، وہ سانس جو دھوئیں میں اٹک کر رہ گئی تھی، وہ ماں جو اپنے لال سے ملنے کے لیے باہر جانے کو تڑپ رہی تھی، مگر سیڑھیاں اور دروازے بے وفا ہو چکے تھے اور وہ ماں جل جل کر اپنی شناخت ختم کر چکی تھی۔ اس آگ نے 40 اجسام کو اس قدر جلایا کہ وہ پگھل کر ناقابل شناخت ہو گئے۔

اب رپورٹ کی جاتی ہے کہ 40 لاشوں کی شناخت ممکن نہیں۔ ان کی شناخت کے امکانات ختم ہو گئے۔ یہ جملہ نہیں ورثا کے سینے پر رکھا ہوا پتھر ہے، یہ اعلان نہیں امید کی تدفین ہے۔ لاپتا افراد کے ورثا کوئی سینے سے تصویر لگائے رو رہا ہے، کوئی بظاہر خاموش ہے لیکن اس کی خاموشی چیخ رہی ہے۔ ماں بار بار راکھ کو دیکھتی ہے، جیسے راکھ سے آواز آئے گی ’’ماں! میں یہاں ہوں۔‘‘

یہ احتجاج نعروں کی شکل میں نہیں رہا۔ یہ آنکھوں کے کناروں میں لرز رہا ہے، جس میں الفاظ جل گئے، صرف آنسو بچے ہیں۔ گل پلازہ اب عمارت نہیں رہی، اس کی راکھ سے اٹھتے سوالات کی چنگاریاں پورے پاکستان میں پھیل کر چنگھاڑ کر سوال کر رہی ہیں۔ یہ حادثہ تھا یا برسوں کی غفلت کا نتیجہ؟ ایسا معلوم دے رہا ہے کہ یہ راکھ ہوا میں پھیل کر اعلان کر رہی ہے کہ یہ حادثہ یا سانحہ ہر اس عمارت میں زندہ ہے جہاں قانون فائل میں بند ہے۔ جہاں انسانی جان سستی ہے۔ یہ آگ ہر اس عمارت میں چھپی ہوئی ہے جہاں حفاظتی اصول کاغذ میں قید ہیں۔ ہر اس دفتر کے کسی کونے میں دبکی ہوئی ہے جہاں فائلیں انسان سے زیادہ قیمتی ہیں اور ہر اس دل میں یہ سوال دہک رہا ہے کہ گل پلازہ جل کر راکھ نہیں بنا بلکہ اس راکھ کی چنگاریاں اب شعلے بن کر چنگھاڑ رہی ہیں کہ اب کس کی باری ہے؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی چنگاریاں گل پلازہ کی شناخت راکھ سے رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف