Express News:
2026-06-02@22:05:42 GMT

گل پلازہ: راکھ کے ڈھیر سے سوالات کی چنگاریاں

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

گل پلازہ جاں بحق 40 افراد کی شناخت کے امکانات ختم ہوگئے۔ گل پلازہ اینٹوں کا ڈھانچا نہیں رہا، وہ راکھ کا ڈھیر ہے جس کی چنگاریوں سے سوال نکل رہے ہیں، چیختے ہوئے، چنگھاڑتے ہوئے۔ 40 انسان جو پگھل گئے، جن کی شناخت کے امکانات ختم ہوگئے۔ یہ وہ جملہ یا سرکاری بیانیہ جو ماں کی امید کو، باپ کے انتظارکو اور بچوں کے مستقبل کو دفن کردیتا ہے۔

گل پلازہ جلتا رہا، دھوئیں نے راستے نگل لیے، سیڑھیاں بے وفا ہوگئیں، اندر موجود لوگ شاید آخری سانس تک کسی معجزے کے منتظر رہے مگر نظام ابھی راستے میں تھا۔ ورثا جو احتجاج کر رہے ہیں، جس میں نعرے نہیں آنسو ہیں، دل کی دھڑکن ہے، سندھ کابینہ نے فی کس ایک کروڑ روپے معاوضے کی منظوری دی ہے۔ یہ ریاستی انتظام ہے، ریاست کی طرف سے مرہم رکھنے کی کوشش ہے۔

گل پلازہ حادثہ نہیں تھا، یہ غفلت کا انجام تھا، یہ فائلوں میں دبی اجازتوں کی سزا تھی۔ گل پلازہ کی راکھ کا ہر ذرہ پوچھ رہا ہے، اگلی باری کس کی ہوگی؟ کیونکہ اس راکھ سے اٹھتی چیختی چلاتی چنگھاڑتی ہوئی سوالوں کی چنگاریاں جلد بجھ جائیں گی۔ ہر راکھ کی چنگاری سے ایک ہی سوال دھاڑے گا، اب اگلا گل پلازہ کون سا ہوگا؟ کیونکہ راکھ محض جلی ہوئی چیز نہیں ہوتی، یہ گواہ ہوتی ہے، یہ چیخوں کو یاد رکھتی ہے۔ یہ آخری لمس سنبھال کر رکھتی ہے۔

گل پلازہ وہ منظر نہیں بھولے گا، جب کوئی ماں بیٹے کی تصویر سینے سے لگائے بیٹھی تھی یا کوئی بچہ بار بار پوچھ رہا تھا، امی کب آئے گی؟ یہ سوال صرف بچے کا نہیں، اب ہر ایک کی زبان پر ہو کہ آخر اس کی ماں کیوں نہ آ سکی۔

بے شمار سوالات اپنی جگہ موجود ہیں،گل پلازہ ہی نہیں بے شمار عمارتیں ایسی ہیں جہاں قانون کاغذ پر ہے مگر عمل میں نہیں۔ جہاں جان کی قیمت کرائے سے کم سمجھی گئی۔ عمارت کلیئر ہوگئی، ملبہ ہٹا دیا گیا، کیا ذمے داری بھی ہٹا دی گئی؟ یہ سوال ہر اس عمارت سے اٹھتے ہیں جہاں آگ سے بچنے کا کوئی نظام نہیں۔ پاکستان بھر میں بے شمار بلڈنگز ایسی ہوں گی جہاں انسپکشن رسمی کارروائی سمجھ کر ٹال دی جاتی ہے اور مٹھی گرم کردی جاتی ہے، لیکن اب گل پلازہ کی راکھ کچھ کہنا چاہتی ہے۔ راکھ یاد دلانا چاہتی ہے، اگر آج بھی رسمی کارروائی سمجھ کرکارروائی نہ کی گئی تو کل کوئی اور عمارت کسی اور نام سے اسی انجام سے دوچار ہو گی۔ گل پلازہ اب ماضی نہیں رہا یہ مستقبل کا انتباہ ہے۔ یہ کالم پڑھنے کے لیے نہیں ہے، سوال اٹھانے کے لیے ہے، جوابات مانگنے کے لیے ہے،کیونکہ اگر راکھ سے اٹھنے والی یہ چیختی چنگھاڑتی سوالات کی چنگاریاں بھی بجھا دی گئیں تو آگ اسی طرح لگتی رہے گی۔

گل پلازہ کے راکھ کے ڈھیر نے بہت سی گواہیاں دی ہیں کیونکہ اس نے بہت کچھ دیکھا ہے۔ وہ چیخ جو سیڑھیوں میں دم توڑ رہی تھی، وہ ہاتھ جو دروازہ بجاتے بجاتے خاموش ہوگیا ہو، وہ سانس جو دھوئیں میں اٹک کر رہ گئی تھی، وہ ماں جو اپنے لال سے ملنے کے لیے باہر جانے کو تڑپ رہی تھی، مگر سیڑھیاں اور دروازے بے وفا ہو چکے تھے اور وہ ماں جل جل کر اپنی شناخت ختم کر چکی تھی۔ اس آگ نے 40 اجسام کو اس قدر جلایا کہ وہ پگھل کر ناقابل شناخت ہو گئے۔

اب رپورٹ کی جاتی ہے کہ 40 لاشوں کی شناخت ممکن نہیں۔ ان کی شناخت کے امکانات ختم ہو گئے۔ یہ جملہ نہیں ورثا کے سینے پر رکھا ہوا پتھر ہے، یہ اعلان نہیں امید کی تدفین ہے۔ لاپتا افراد کے ورثا کوئی سینے سے تصویر لگائے رو رہا ہے، کوئی بظاہر خاموش ہے لیکن اس کی خاموشی چیخ رہی ہے۔ ماں بار بار راکھ کو دیکھتی ہے، جیسے راکھ سے آواز آئے گی ’’ماں! میں یہاں ہوں۔‘‘

یہ احتجاج نعروں کی شکل میں نہیں رہا۔ یہ آنکھوں کے کناروں میں لرز رہا ہے، جس میں الفاظ جل گئے، صرف آنسو بچے ہیں۔ گل پلازہ اب عمارت نہیں رہی، اس کی راکھ سے اٹھتے سوالات کی چنگاریاں پورے پاکستان میں پھیل کر چنگھاڑ کر سوال کر رہی ہیں۔ یہ حادثہ تھا یا برسوں کی غفلت کا نتیجہ؟ ایسا معلوم دے رہا ہے کہ یہ راکھ ہوا میں پھیل کر اعلان کر رہی ہے کہ یہ حادثہ یا سانحہ ہر اس عمارت میں زندہ ہے جہاں قانون فائل میں بند ہے۔ جہاں انسانی جان سستی ہے۔ یہ آگ ہر اس عمارت میں چھپی ہوئی ہے جہاں حفاظتی اصول کاغذ میں قید ہیں۔ ہر اس دفتر کے کسی کونے میں دبکی ہوئی ہے جہاں فائلیں انسان سے زیادہ قیمتی ہیں اور ہر اس دل میں یہ سوال دہک رہا ہے کہ گل پلازہ جل کر راکھ نہیں بنا بلکہ اس راکھ کی چنگاریاں اب شعلے بن کر چنگھاڑ رہی ہیں کہ اب کس کی باری ہے؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی چنگاریاں گل پلازہ کی شناخت راکھ سے رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی