data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر)چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کراچی میں بینظیر بھٹو شہید ہیومن ریسورس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ کا دورہ اور مختلف اقدامات، منصوبوں اور تربیتی پروگرامز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بینظیر ہنرمند پروگرام کے تحت مستحق خواتین اور ان کے گھرانوں کے افراد کے لیے مختلف شعبہ جات میں سکل ٹریننگ اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے، نیز دونوں اداروں کے درمیان باہمی اشتراک اور تعاون کو مزید فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بریفنگ کے دوران آگاہ کیا گیا کہ سندھ میں بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والے گھرانوں کے افراد کے لیے سکل ٹریننگ کے تحت پانچ ہزار افراد کی رجسٹریشن مکمل کی جا چکی ہے، جبکہ اس سے قبل تین ہزار افراد کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ ان تربیتی پروگرامز کا بنیادی مقصد مستحق خاندانوں کو ہنر مند بنا کر خود کفیل بنانا اور انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ سکل ٹریننگ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا وژن تھا۔ انہوں نے شہید بی بی کے الفاظ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ‘‘ہنر آپ کا سرمایہ ہے’’۔ سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ آج عالمی سطح پر ہنر مند افرادی قوت کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہمیں اپنے نوجوانوں اور خواتین کو جدید تقاضوں کے مطابق تربیت فراہم کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس وسائل موجود ہیں، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ادارے باہمی اشتراک اور آپسی تعاون کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ یہ ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے اور سکل ٹریننگ کی اہمیت کے حوالے سے عوام میں مکمل آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بیرونِ ملک روزگار کے حصول کے لیے بین الاقوامی معیار کی سرٹیفکیشنز نہایت ضروری ہیں، لہٰذا تربیتی پروگرامز میں ان سرٹیفکیشنز کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سینیٹر روبینہ خالد نے سکل ٹریننگ نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری

گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں،  سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.

 قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو