اسپیس ایکس کا سال 2025 میں تاریخی منافع، مالی تفصیلات سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس نے گزشتہ سال 15 سے 16 ارب ڈالر آمدن پر تقریباً 8 ارب ڈالر منافع کمایا۔
رپورٹ کے مطابق یہ منافع ای بی آئی ٹی ڈی اے کی بنیاد پر ہے، جو کمپنی کی آپریٹنگ کارکردگی کا اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ اسپیس ایکس کی آمدن کا بڑا حصہ اس کے سیٹلائٹ انٹرنیٹ منصوبے اسٹارلنک سے حاصل ہو رہا ہے، جو کل آمدن کا تقریباً 50 سے 80 فیصد ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اسپیس ایکس کی مالیت 2026 میں 1.
2019 کے بعد سے اب تک 9,500 اسٹارلنک سیٹلائٹس خلا میں بھیجے جا چکے ہیں، جس کے بعد اسپیس ایکس دنیا کی سب سے بڑی سیٹلائٹ آپریٹر بن چکی ہے۔ اسٹارلنک کے صارفین کی تعداد 90 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسٹارلنک اور اس سے منسلک سرکاری و عسکری منصوبوں سے حاصل ہونے والی آمدن کمپنی کے نئے اسٹار شپ راکٹ کی تیاری میں مدد فراہم کر رہی ہے۔
اسپیس ایکس نے گزشتہ سال ایکو اسٹار سے 19 ارب ڈالر مالیت کے وائرلیس اسپیکٹرم حقوق بھی خریدے، تاکہ موبائل فونز کو براہِ راست سیٹلائٹس سے منسلک کرنے کے منصوبے کو وسعت دی جا سکے۔
رپورٹس کا کہنا ہے کہ اسپیس ایکس اپنے آئی پی او کا اعلان ایلون مسک کی 55ویں سالگرہ، 28 جون کے قریب کر سکتی ہے۔ مسک کو توقع ہے کہ اسٹار شپ راکٹ رواں سال باقاعدہ طور پر خلا میں سامان لے جانا شروع کر دے گا، جسے مستقبل میں خلا میں قائم اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے بھی استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایلون مسک نے اے آئی کو ’سپر سونک سونامی‘ قرار دے دیا، ان کی وارننگ کیا ہے؟
رائٹرز کے مطابق اسپیس ایکس، ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی xAI کے ساتھ ممکنہ انضمام پر بھی بات چیت کر رہی ہے، تاہم کمپنی نے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیس ایکس ایلون مسک
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔