اسلام آباد ( ملک نجیب) اسلام آباد میں ڈیجیٹل گورننس کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ای-سٹیمپنگ کا نظام کامیابی سے نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اسٹامپ پیپرز کے حوالے سے ہونے والی جعل سازی کے امکانات تقریباً ختم ہو گئے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن نے ایف ایٹ کچہری میں قائم اسٹامپ شاپس کا دورہ کیا اور ای-سٹیمپنگ کے عمل، فراہم کی جانے والی سہولیات اور آن لائن پورٹل کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ریونیو افسران نے ڈی سی کو سسٹم کے مختلف پہلوؤں پر بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ شہری اب آن لائن پورٹل کے ذریعے ای-سٹیمپ پیپرز با آسانی ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کو عوامی سہولت کے پیش نظر سادہ اور صارف دوست بنایا گیا ہے، جس کی بدولت شہری فوری طور پر اسٹیمپ پیپر کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اس نظام کے نفاذ سے شفافیت میں اضافہ ہوا ہے اور جعل سازی کے امکانات ختم ہو گئے ہیں۔
اس موقع پر اسٹامپ فروشوں نے بھی ای-سٹیمپنگ کے آغاز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے انتظامیہ کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس سے اسٹیمپ پیپرز کے حوالے سے جاری فراڈ پر قابو پایا جا سکے گا۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ای-سٹیمپنگ نہ صرف شہریوں کا وقت اور وسائل بچائے گی بلکہ ریونیو کے معاملات میں شفافیت اور اعتماد کو بھی فروغ دے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اسلام ا باد

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت