عراق میں بھارتی شہریوں کے اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
عالمی سطح کے نامور سکیورٹی اور سیاسی تجزیہ کار مہند سلومی نے کہا ہے کہ عراق میں لاکھوں بھارتی شہری اسرائیل کے لیے جاسوسی کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، دوحہ یونیورسٹی میں سکیورٹی اسٹڈیز پروگرام کے اسسٹنٹ پروفیسر اور جرنل آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے ایڈیٹوریل بورڈ کے رکن مہند سلومی نے قطر میں ایک نجی پروگرام کے دوران بتایا کہ عراق میں تقریباً پندرہ لاکھ بھارتی شہری اسرائیل کے لیے معلومات اکٹھا کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ جاسوس عراق کے مختلف شعبوں میں سرگرم ہیں، جن میں صحت کا شعبہ اور عراقی فوج شامل ہیں، اور بعض تو صفائی کے عملے کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ مہند سلومی کے مطابق اسرائیل نے اس جاسوسی کا فائدہ اٹھایا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ عراق بھارت کو ایک دوست ملک سمجھتا ہے۔
مزید برآں، اس نوعیت کی سرگرمیاں بھارت کی اسلحہ حاصل کرنے کی کوششوں سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔ تجزیہ کار نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیل نے خطے میں پاکستان پر برتری حاصل کرنے کی متعدد کوششیں کیں، تاہم وہ ناکام رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔