کانگو میں کان اچانک بیٹھ گئی، 200 سے زائد افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
افریقی ملک کانگو کے مشرقی علاقے میں ایک بڑی کان کے اچانک بیٹھ جانے کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حادثہ ربایا نامی علاقے میں پیش آیا، جہاں کولٹن نامی قیمتی معدنیات نکالنے والی کان کا اندرونی حصہ منہدم ہو گیا۔
حادثے کے وقت کان کے اندر بڑی تعداد میں مزدور کام کر رہے تھے، جن میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ کان کے بیٹھنے سے چند ہی لمحوں میں پورا علاقہ مٹی، پتھروں اور ملبے کی زد میں آ گیا، جس کے باعث سیکڑوں افراد دب گئے۔ مقامی حکام کے مطابق اب تک 200 سے زائد لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جب کہ بعض ذرائع ہلاکتوں کی تعداد 227 یا اس سے بھی زیادہ بتا رہے ہیں۔
یہ کان کولٹن نامی معدنیات کے لیے مشہور ہے، جس سے ٹینٹالم تیار کیا جاتا ہے۔ ٹینٹالم موبائل فونز، کمپیوٹرز، الیکٹرونکس اور دیگر جدید ٹیکنالوجی آلات میں استعمال ہونے والا ایک اہم عنصر ہے، جس کی عالمی سطح پر مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی طلب کے باعث ربایا جیسے علاقوں میں غیر رسمی اور غیر محفوظ طریقوں سے کان کنی عام ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ربایا میں کان کنی کا زیادہ تر کام مقامی مزدور انتہائی کم اجرت پر کرتے ہیں، جہاں حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ غیر مستحکم سرنگیں، حفاظتی آلات کی کمی اور نگرانی کے فقدان نے ایسے حادثات کے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
حادثے کے بعد مقامی انتظامیہ اور امدادی ٹیموں نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری اور دستی آلات استعمال کیے جا رہے ہیں، تاہم دشوار گزار علاقہ اور محدود وسائل امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اب بھی متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ موجود ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں طبی سہولیات پہلے ہی محدود ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں اور سماجی تنظیموں نے اس سانحے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کان کنی کے شعبے میں حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔