ٹرمپ نے ایران کو ’ڈیڈ لائن‘ دیدی؛ امریکی میزائل بردار بحری جہاز ایلات میں لنگرانداز
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے خفیہ طور پر ایران کو ایک ڈیڈ لائن دی ہے، اور اگر اس کے بعد ایران جوہری معاہدے کو قبول نہیں کرتا تو امریکہ بڑی فوجی کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو ڈیڈ لائن دینے کے ساتھ ہی خطے میں امریکی فوجیوں کی نقل و حرکت تیز کر دی گئی ہے۔
تازہ پیشرفت میں ایک امریکی میزائل بردار تباہ کن جہاز اسرائیل کے بحیرۂ احمر کے شہر ایلات کی بندرگاہ پر لنگرانداز ہوا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ڈیڈ لائن کی مدت ظاہر نہیں کی اور کہا کہ صرف وہ جانتے ہیں کہ ڈیڈ لائن کب ختم ہوگی، لیکن امید ہے کہ ایران معاہدہ کرے گا، ورنہ دیکھیں گے کیا ہوتا ہے۔
دوسری جانب ایران کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے جوہری اور دفاعی پروگرام پر کسی بھی صورت نظرثانی نہیں کریں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترکی کے دورے کے دوران کہا کہ ایران کی دفاعی اور میزائل صلاحیتیں کبھی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گی۔
عراقچی نے مزید کہا کہ ایران باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر بات چیت کے لیے تیار ہے، مگر قومی دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو اپنی ضروریات کے مطابق برقرار رکھے گا اور مستقبل میں ان میں اضافہ بھی کرے گا۔
یاد رہے کہ امریکہ ایران سے یورینیم افزودگی پر پابندی، پہلے سے افزودہ یورینیم کی منتقلی، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی حد بندی اور خطے میں پراکسی گروہوں کی حمایت میں کمی چاہتا ہے، لیکن تہران نے یہ تمام نکات پہلے ہی ناقابل قبول قرار دے دیے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈیڈ لائن کہ ایران کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔