آزاد جموں وکشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میر پور: آزاد جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود انتقال کر گئے۔
بیرسٹر سلطان محمودگزشتہ کئی ماہ سے علیل اور زیر علاج تھے اور وہ آج اسلام آباد کے نجی اسپتال میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا شمار خطے کے ان سیاست دانوں میں ہوتا تھا جو گزشتہ قریباً ساڑھے تین دہائیوں سے کشمیر کی سیاست میں متحرک کردار ادا کر رہے تھے۔
ان کا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے تھا، ان کے والد چوہدری نور حسین بھی کشمیر کی سیاست کا ایک نمایاں نام رہے، جنہوں نے آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس سے علیحدگی اختیار کر کے ’آزاد مسلم کانفرنس‘ کے نام سے اپنی جماعت بنائی اور اسی پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔