اسپین میں رہائش اور کام کی اجازت ملنے پر غیرقانونی تارکین وطن کے تاثرات کیا ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
اسپین کی حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم ہزاروں تارکینِ وطن کے لیے تاریخی اقدام کرتے ہوئے رہائش اور کام کے اجازت نامے دینے کا اعلان کیا ہے۔
اسپین میں 5 لاکھ سے زائد افراد ایسے ہیں جو بغیر قانونی اجازت کے مقیم ہیں اور زیادہ تر کم اجرت والے کام کرتے ہیں جنہیں مقامی اسپینی لوگ کرنے سے کتراتے ہیں، جیسے فصلیں توڑنا، بچوں اور بزرگوں کی دیکھ بھال، گھروں اور ہوٹل کے کمروں کی صفائی وغیرہ۔ کچھ افراد تو بے گھر بھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسپین کا 5 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ
اس اقدام کے تحت وہ غیر ملکی جو 31 دسمبر 2025 سے پہلے اسپین پہنچ چکے ہیں، کم از کم 5 ماہ سے وہاں مقیم ہیں اور ان پر کوئی جرائم کا الزام نہیں، قانونی رہائش اور کام کے اجازت نامے کے لیے درخواست دے سکیں گے۔ وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ یہ اقدام اُن لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے اسپین کی ترقی میں حصہ ڈالا ہے۔
کولمبین پناہ گزین، مستقل قانونی راستہکولمبیا سے تعلق رکھنے والے پناہ گزین، الے کاستانیڈا نے کہا کہ ان کی وقتی اجازت نامہ فروری میں ختم ہونے والا تھا اور وہ شدید اضطراب میں تھے۔ اسپین کی نئی پالیسی سے اگر ان کی پناہ گزینی کی درخواست مسترد ہو جاتی ہے تو بھی ان کے پاس قانونی رہنے کا دوسرا راستہ موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ صرف کام کرنا چاہتے ہیں اور بنیادی سہولیات جیسے بینک اکاؤنٹ تک رسائی چاہتے ہیں۔ کاستانیڈا نے واضح کیا کہ وہ سرکاری مدد پر انحصار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
چلی کی سابق آرکیٹیکٹ، غربت اور غیر یقینی صورتحالچلی کی سابق آرکیٹیکٹ، پولینا ویلنزیویلا تین سال سے اسپین میں قانونی حیثیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھیں، لیکن متعدد بار درخواستیں مسترد ہو گئی اور انہیں مہنگے فراڈ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: نکولس مادورو کی برطرفی کے بعد وینزویلا کے تارکین وطن واپسی پر غور کرنے لگے
انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی کام کے لیے تیار ہیں، اور کئی اپارٹمنٹس کی صفائی کرنے پر مجبور تھیں تاکہ روزی روٹی کما سکیں۔ اسپین کے سیاحتی شعبے میں غیر قانونی اور سستے مزدوروں کا بڑا کردار ہے، جبکہ مزدور خود اس کی کم آمدنی حاصل کرتے ہیں۔
پاکستانی نوجوان کی بے روزگاری اور مشکلاتپاکستان سے تعلق رکھنے والے حسین دار، 30 سالہ، اسپین میں تقریباً ایک سال سے مقیم ہیں اور بغیر کاغذات کے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ابتدا میں برطانیہ میں ماسٹرز کے لیے گئے لیکن سخت امیگریشن قوانین کے سبب اسپین آنے پر مجبور ہوئے۔ اب قانونی کام نہ ہونے کے سبب اپنی تمام جمع پونجی ختم کر دی، اپنا کمپیوٹر فروخت کر دیا اور اب فون بیچنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے غیرقانونی تارکین وطن کی تعداد میں ہوشربا اضافہ
اسپین کی نئی رہائشی پالیسی سے وہ قانونی کام کر سکیں گے، ٹیکس ادا کریں گے اور اپنے خاندان سے ملاقات کے لیے واپس جا سکیں گے۔ دار نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:’ویوا اسپین! ویوا پیڈرو سانچیز! ہم انہیں پسند کرتے ہیں۔‘
حکومت کی تیاری اور چیلنجزہسپانوی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ ہزاروں درخواستوں کو چند ماہ میں نمٹانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہاں تک کہ سب سے بنیادی عمل، یعنی امیگریشن دفتر میں ملاقات کا وقت حاصل کرنا، اتنا مشکل ہے کہ بعض مجرمانہ گروہ اسے 50 یورو میں فروخت کرتے ہیں۔
وزیر برائے ہجرت، ایلما سائیز نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وزارت اضافی وسائل مختص کرے گی تاکہ عمل آسان اور شفاف ہو۔
تارکینِ وطن کے لیے امید کی کرناس اقدام سے غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت، مالی تحفظ، اور اسپین کی معیشت میں شراکت کا موقع ملے گا۔ اس کے علاوہ وہ اب طویل عرصے سے اپنے خاندان سے ملاقات کر سکیں گے۔
تارکینِ وطن جیسے کاستانیڈا، ویلنزیویلا اور دار نے اس فیصلے کو “سال 2026 کی بہترین خبر” قرار دیا اور اسپین کی نئی پالیسی سے امید پیدا ہونے کا اظہار کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسپین پناہ گزین تارکین وطن قانونی رہائش کام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپین پناہ گزین تارکین وطن قانونی رہائش کام قانونی تارکین تارکین وطن اسپین میں نے کہا کہ کرتے ہیں اسپین کی سکیں گے ہیں اور کے لیے
پڑھیں:
25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
سٹی 42: 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسے کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہوگیا ۔
صدر پیپلز پارٹی لاہور فیصل میر دیگر مقامی قائدین اور کارکنان کے ہمراہ گریٹر اقبال پارک پہنچ گئے ۔ مینار پاکستان، صدر پیپلز پارٹی لاہور فیصل میر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا جلسے کی اجازت دینے پر وزیراعلی مریم نواز کے مشکور ہیں۔پرنسپل سیکرٹری نے ہمیں بتایا کہ اجازت دے دی گئی ہے۔جلسے کی تاحال زبانی اجازت دی گئی ہے تحریری اجازت ابھی نہیں دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
جلسے کی اجازت دے کر مریم نواز نے جمہوری روایات کو پروان چڑھایا ہے۔آج 23 جولائی کو آئے ہیں ساری رات یہیں ہیں۔جلسے کے دوران صدر آصف علی زرداری کی سالگرہ کا کیک کاٹیں گے۔
25 جولائی کو جلسہ 8 بجے شروع ہو گا۔بلاول بھٹو وڈیو لنک سے خطاب کریں گے۔راجہ پرویز اشرف، حسن مرتضی قمر زمان کائرہ و دیگر قائدین خطاب کریں گے۔