اسپین کی حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم ہزاروں تارکینِ وطن کے لیے تاریخی اقدام کرتے ہوئے رہائش اور کام کے اجازت نامے دینے کا اعلان کیا ہے۔

 اسپین میں 5 لاکھ سے زائد افراد ایسے ہیں جو بغیر قانونی اجازت کے مقیم ہیں اور زیادہ تر کم اجرت والے کام کرتے ہیں جنہیں مقامی اسپینی لوگ کرنے سے کتراتے ہیں، جیسے فصلیں توڑنا، بچوں اور بزرگوں کی دیکھ بھال، گھروں اور ہوٹل کے کمروں کی صفائی وغیرہ۔ کچھ افراد تو بے گھر بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسپین کا 5 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ

اس اقدام کے تحت وہ غیر ملکی جو 31 دسمبر 2025 سے پہلے اسپین پہنچ چکے ہیں، کم از کم 5 ماہ سے وہاں مقیم ہیں اور ان پر کوئی جرائم کا الزام نہیں، قانونی رہائش اور کام کے اجازت نامے کے لیے درخواست دے سکیں گے۔ وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ یہ اقدام اُن لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے اسپین کی ترقی میں حصہ ڈالا ہے۔

کولمبین پناہ گزین، مستقل قانونی راستہ

کولمبیا سے تعلق رکھنے والے پناہ گزین، الے کاستانیڈا نے کہا کہ ان کی وقتی اجازت نامہ فروری میں ختم ہونے والا تھا اور وہ شدید اضطراب میں تھے۔ اسپین کی نئی پالیسی سے اگر ان کی پناہ گزینی کی درخواست مسترد ہو جاتی ہے تو بھی ان کے پاس قانونی رہنے کا دوسرا راستہ موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ صرف کام کرنا چاہتے ہیں اور بنیادی سہولیات جیسے بینک اکاؤنٹ تک رسائی چاہتے ہیں۔ کاستانیڈا نے واضح کیا کہ وہ سرکاری مدد پر انحصار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

چلی کی سابق آرکیٹیکٹ، غربت اور غیر یقینی صورتحال

چلی کی سابق آرکیٹیکٹ، پولینا ویلنزیویلا تین سال سے اسپین میں قانونی حیثیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھیں، لیکن متعدد بار درخواستیں مسترد ہو گئی اور انہیں مہنگے فراڈ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: نکولس مادورو کی برطرفی کے بعد وینزویلا کے تارکین وطن واپسی پر غور کرنے لگے

انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی کام کے لیے تیار ہیں، اور کئی اپارٹمنٹس کی صفائی کرنے پر مجبور تھیں تاکہ روزی روٹی کما سکیں۔ اسپین کے سیاحتی شعبے میں غیر قانونی اور سستے مزدوروں کا بڑا کردار ہے، جبکہ مزدور خود اس کی کم آمدنی حاصل کرتے ہیں۔

پاکستانی نوجوان کی بے روزگاری اور مشکلات

پاکستان سے تعلق رکھنے والے حسین دار، 30 سالہ، اسپین میں تقریباً ایک سال سے مقیم ہیں اور بغیر کاغذات کے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ابتدا میں برطانیہ میں ماسٹرز کے لیے گئے لیکن سخت امیگریشن قوانین کے سبب اسپین آنے پر مجبور ہوئے۔ اب قانونی کام نہ ہونے کے سبب اپنی تمام جمع پونجی ختم کر دی، اپنا کمپیوٹر فروخت کر دیا اور اب فون بیچنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے غیرقانونی تارکین وطن کی تعداد میں ہوشربا اضافہ

اسپین کی نئی رہائشی پالیسی سے وہ قانونی کام کر سکیں گے، ٹیکس ادا کریں گے اور اپنے خاندان سے ملاقات کے لیے واپس جا سکیں گے۔ دار نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:’ویوا اسپین! ویوا پیڈرو سانچیز! ہم انہیں پسند کرتے ہیں۔‘

حکومت کی تیاری اور چیلنجز

ہسپانوی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ ہزاروں درخواستوں کو چند ماہ میں نمٹانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہاں تک کہ سب سے بنیادی عمل، یعنی امیگریشن دفتر میں ملاقات کا وقت حاصل کرنا، اتنا مشکل ہے کہ بعض مجرمانہ گروہ اسے 50 یورو میں فروخت کرتے ہیں۔

وزیر برائے ہجرت، ایلما سائیز نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وزارت اضافی وسائل مختص کرے گی تاکہ عمل آسان اور شفاف ہو۔

تارکینِ وطن کے لیے امید کی کرن

اس اقدام سے غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت، مالی تحفظ، اور اسپین کی معیشت میں شراکت کا موقع ملے گا۔ اس کے علاوہ وہ اب طویل عرصے سے اپنے خاندان سے ملاقات کر سکیں گے۔

تارکینِ وطن جیسے کاستانیڈا، ویلنزیویلا اور دار نے اس فیصلے کو “سال 2026 کی بہترین خبر” قرار دیا اور اسپین کی نئی پالیسی سے امید پیدا ہونے کا اظہار کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسپین پناہ گزین تارکین وطن قانونی رہائش کام.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسپین پناہ گزین تارکین وطن قانونی رہائش کام قانونی تارکین تارکین وطن اسپین میں نے کہا کہ کرتے ہیں اسپین کی سکیں گے ہیں اور کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان