برداشت ہم سے کیسے رخصت ہوگئی؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
ہم کب اور کیسے عدم برداشت کا شکار ہوگئے، یہ سوال آج بہت اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ یہ صرف ایک سوال نہیں بلکہ ہمارے سماج کی وہ تصویر ہے جو خوشنما نہیں۔ اپنے اردگرد دیکھیں، سڑک پر، دفتر میں، گھروں کے اندر سوشل میڈیا پر ہر جگہ غصہ، جھنجھلاہٹ اور عدم برداشت نظر آئے گی۔
معمولی بات پر تلخی، اختلافِ رائے پر دشمنی اور ذرا سی تکلیف پر بدزبانی۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم سب کسی انجانی دوڑ میں شامل ہیں، جہاں جیتنے کا واحد راستہ چیخنا، دھمکانا اور دوسرے کو نیچا دکھانا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم وہاں کیسے پہنچے؟ ہم نے برداشت کب اورکہاں کھو دی؟
برداشت کسی ایک دن میں ختم نہیں ہوتی، یہ آہستہ آہستہ رخصت ہوتی ہے، بالکل اس خاموش مہمان کی طرح جو بغیر بتائے گھر چھوڑ جاتا ہے اور ہمیں اس کی کمی اس کے جانے کے بعد محسوس ہوتی ہے۔
اس سب کی پہلی کڑی ہمارے روزمرہ دباؤ سے جڑی ہے، مہنگائی، بے یقینی، روزگارکا خوف، مستقبل کی دھند یہ سب مل کر انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
جب پیٹ اور جیب خالی ہوں تو دماغ صحیح طرح کام نہیں کر پاتا اور تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ آدمی خود کو بے بس محسوس کرتا ہے اور بے بسی اکثر غصے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
پھر ہمارا سماجی ڈھانچہ ہے، جوکبھی رشتوں کی مضبوطی پرکھڑا تھا۔ اب وہی رشتے مفادات کی بنیاد پر تولے جاتے ہیں۔ صبر، برداشت اور لحاظ جیسے الفاظ لغت میں تو ہیں مگر زندگی میں کم کم دکھائی دیتے ہیں۔
ہم نے سننا چھوڑ دیا ہے، ہرکوئی بولنا چاہتا ہے،کوئی سننا نہیں چاہتا۔ مکالمہ ختم ہوا تو برداشت بھی ختم ہوگئی،کیونکہ برداشت سننے سے پیدا ہوتی ہے، چیخنے سے نہیں۔
سوشل میڈیا نے اس زوال کو تیزکردیا ہے۔ یہاں الفاظ کی کوئی قیمت نہیں، لہجوں کا کوئی حساب نہیں۔ اسکرین کے پیچھے بیٹھا شخص دوسرے کو انسان نہیں، ایک اکاؤنٹ سمجھتا ہے۔
اختلافِ رائے کو اختلاف نہیں دشمنی بنا دیا گیا ہے، چند لائکس اور شیئرز کے لیے ہم نے زبان کی شرافت قربان کردی۔ جو بات سامنے کہنے کی ہمت نہیں ہوتی، وہ لکھ دی جاتی ہے۔
اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عدم برداشت کی وباء وائرل پوسٹ کی طرح پھیلتی ہے۔ قصور صرف سوشل میڈیا کا نہیں، ہم نے اپنے گھروں میں بھی برداشت کی تربیت دینا چھوڑ دی ہے۔ بچے وہی سیکھتے ہیں، جو دیکھتے ہیں۔
جب والدین معمولی بات پر ایک دوسرے پر چیختے چلاتے ہیں، جب اختلاف کو عزت سے نمٹانے کے بجائے اَنا کی جنگ بنا دیا جاتا ہے تو نئی نسل صبر کہاں سے سیکھے؟ ہم بچوں کو کامیاب ہونا تو سکھاتے ہیں مگر برداشت کرنا نہیں سکھاتے۔ انھیں جیتنا تو سکھاتے ہیں سر اٹھا کر ہارنا نہیں سکھاتے۔
تعلیم کا کردار بھی یہاں سوالیہ نشان ہے۔ ہم نے تعلیم کو صرف ڈگری اور نوکری تک محدود کردیا ہے۔ کردار سازی، تنقیدی سوچ اور اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت نصاب سے نکل چکی ہے۔
نتیجتاً ہم ایسے پڑھے لکھے لوگ پیدا کررہے ہیں جو دلائل سے نہیں بلکہ دھونس سے بات کرتے ہیں، جو اختلاف کو ذاتی حملہ سمجھتے ہیں اور ہر بحث کو اَنا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔
ہماری سیاست بھی عدم برداشت کی ایک بڑی درسگاہ بن چکی ہے۔ لیڈر ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے، کارکن ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے تو عام آدمی کہاں سے سیکھے؟
جب اختلافِ رائے کو ’’غداری‘‘ کہا جائے، جب سوال اٹھانے والے کو دشمن بنا دیا جائے تو سماج غصے کے لاوے پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ ہم نے سیاست کو خدمت کے بجائے نفرت کا میدان بنا دیا اور یہ نفرت نیچے تک سرایت کرگئی۔
برداشت کے ختم ہونے کی ایک وجہ ہماری جلد بازی بھی ہے۔ ہمیں سب کچھ فوراً چاہیے، نتائج کامیابی صبر ایک طویل عمل ہے اور ہم شارٹ کٹس کے عادی ہو چکے ہیں۔
جب چیزیں ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہوتیں تو ہم نظام لوگوں اور حالات کو کوسنے لگتے ہیں۔ خود احتسابی مشکل کام ہے، دوسروں کو الزام دینا آسان اور یہی آسانی ہمیں عدم برداشت کی طرف لے جاتی ہے، لیکن سوال صرف یہ نہیں کہ ہم نے برداشت کہاں کھو دی، سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہم اسے واپس پا سکتے ہیں؟
جواب مایوس کن نہیں۔ برداشت کوئی کھویا ہوا خزانہ نہیں، جس کا سراغ ناممکن ہو، یہ ہمارے اندر ہی کہیں دبی ہوئی ہے بس اسے جگانے کی ضرورت ہے۔ اس کا آغاز چھوٹے پیمانے پر ہوتا ہے، اپنے لہجے سے اپنے ردعمل سے اپنے رویے سے۔
ہمیں دوبارہ سننا سیکھنا ہوگا۔ اختلاف کو برداشت نہیں قبول کرنا ہوگا، ہر اختلاف دشمنی نہیں ہوتا، ہر سوال بغاوت نہیں ہوتا۔ ہمیں اپنے گھروں سے آغاز کرنا ہوگا، بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ غصہ آنا فطری ہے مگر غصے میں خود کو قابو میں رکھنا اصل طاقت ہے۔ ہمیں سوشل میڈیا پر لکھتے وقت یہ یاد رکھنا ہوگا کہ سامنے بھی ایک انسان ہے جذبات کے ساتھ، مسائل کے ساتھ۔
سب سے بڑھ کر ہمیں خود سے سچ بولنا ہوگا۔ ماننا ہوگا کہ ہم چڑچڑے ہو چکے ہیں، تھکے ہوئے ہیں اور ہمیں ٹھہراؤکی ضرورت ہے۔ برداشت کمزوری نہیں بلکہ پختگی کی علامت ہے۔ جو قوم برداشت کھو دیتی ہے وہ صرف شور پیدا کرتی ہے حل نہیں اور جو قوم برداشت کو سنبھال لیتی ہے وہ اندھیروں میں بھی راستہ نکال لیتی ہے۔
شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم رک کر سوچیں ذرا سانس لیں۔ ایک قدم پیچھے ہٹ کر خود کو دیکھیں برداشت کہیں دور نہیں گئی بس ہم نے اسے اہمیت دینا چھوڑ دیا ہے، اب اگر ہم نے اسے واپس نہ اپنایا تو نقصان صرف رشتوں کا نہیں ہوگا پورے سماج کا ہوگا۔
ہم نے جذبات کے اظہارکو بھی عدم برداشت کی نذر کردیا ہے۔ اب غصہ دکھانا حق سمجھا جاتا ہے اور تحمل کو کمزوری قرار دیا جاتا ہے حالانکہ اصل قوت خاموشی ٹھہراؤ اور خود پر قابو میں مضمر ہے۔ جو انسان اپنے اندر کے طوفان کو سمجھ لیتا ہے وہ دوسروں کے احساسات کو بھی سمجھنے لگتا ہے۔
مگر ہم نے خود سے مکالمہ کرنے کا ہنرکھو دیا ہے۔ ہم ردِعمل کی زندگی گزار رہے ہیں، شعوری عمل کی نہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے فیصلے عارضی رشتے ناپائیدار اور رویے دن بہ دن سخت ہوتے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عدم برداشت کی سوشل میڈیا اختلاف کو کو برداشت دوسرے کو جاتا ہے بنا دیا ہے اور دیا ہے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم