Jasarat News:
2026-07-24@05:52:03 GMT

آٹے کا بحران، بیروزگاری، مہنگائی کا معاشرتی اثر

اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260201-03-8
آٹا محض ایک خوراک نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں زندگی کی بنیادی علامت ہے، وہ شے جس کے گرد غریب کی پوری معیشت، امید اور بقا گھومتی ہے۔ جب روٹی مہنگی ہو جائے تو یہ صرف قیمتوں کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹنے لگتا ہے۔ آج ملک بھر میں آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اسی ٹوٹتے ہوئے اعتماد کی گواہی دے رہی ہیں۔ ایک طرف حکومتی بیانات میں مہنگائی میں کمی کے دعوے سنائی دیتے ہیں، تو دوسری طرف عام آدمی کے چولہے ٹھنڈے پڑتے جا رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ آٹا مہنگا کیوں ہوا، اصل سوال یہ ہے کہ ریاست اپنے کمزور شہریوں کے ساتھ کہاں کھڑی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پشاور اور بنوں میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 3 ہزار روپے تک ہے۔ اسلام آباد میں 2960 روپے، راولپنڈی میں 2933، کوئٹہ 2850 اور حیدرآباد میں آٹے کا 20 کلو کا تھیلا2760 روپے تک میں فروخت ہو ر ہا ہے۔ کراچی 2700 روپے اور سرگودھا میں 2667 روپے تک ہوگیا۔ فیصل آباد، خضدار، سکھر اور ملتان میں آٹے کا20 کلو کا تھیلا2600 روپے تک ہے۔ سیالکوٹ 2540 اور بہاولپور میں 2506 روپے تک میں فروخت ہو ر ہا ہے۔ لاڑکانہ 2500 اور گوجرانوالہ میں 2467 روپے تک ہے۔ لاہور میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت سب سے کم 1850 روپے تک ہے۔ آٹے کی قیمتوں میں جو بڑا فرق ہم دیکھ رہے ہیں، وہ صرف طلب اور رسد کے بدلاؤ کی وجہ سے نہیں ہے۔ اس کا اصل سبب حکومت یا متعلقہ اداروں کا ناقص انتظام، کمزور نگرانی، اور پالیسیوں کی ناکامی ہے۔ یعنی، قیمتیں بڑھنے یا کم ہونے میں حکومتی کارکردگی اور نظام کی کمزوری کا بھی بڑا کردار ہے۔ یہ فرق صرف عددی نہیں بلکہ ایک گہری معاشرتی ناانصافی کی علامت ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ہی ملک میں، ایک ہی فصل سے تیار ہونے والا آٹا مختلف شہروں میں اتنے مختلف نرخوں پر کیوں فروخت ہو رہا ہے۔ کیا یہ ذخیرہ اندوزی نہیں، کیا یہ ناجائز منافع خوری نہیں، یا پھر حکومتی نگرانی کا فقدان ہے؟ گندم کی پیداوار سے لے کر اس کی خریداری، ذخیرہ، ترسیل اور آٹے کی تیاری تک پورا نظام بدانتظامی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ کسان کو گندم کی مناسب قیمت نہیں ملتی، فلور مل مالکان منافع سمیٹتے ہیں، بیوپاری ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں اور آخرکار بوجھ غریب صارف کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔

یہ بحران کسی ایک شہر یا چند علاقوں تک محدود نہیں بلکہ ملک کے بیش تر شہری اور دیہی خطوں میں محسوس کیا جا رہا ہے۔ عالمی بینک اور اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ادارے جیسے بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کی ایک بڑی آبادی غربت کی لکیر کے قریب یا اس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، اور ایسے حالات میں آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی قیمت میں اضافہ ان طبقات کے لیے خوراک تک رسائی کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ اسی طرح پاکستان بیورو آف شماریات کے لیبر فورس سروے کے مطابق ملک میں بیروزگاری میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً شہری مزدور طبقے اور نوجوانوں میں، جس نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو جاتی ہے جب اسے مجموعی معاشی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے۔ مہنگائی پہلے ہی عوام کی کمر توڑ چکی ہے، روزگار کے مواقع محدود ہو رہے ہیں، توانائی کے بحران اور گیس و بجلی کی لوڈشیڈنگ نے روزمرہ زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ ایسے میں آٹے جیسی بنیادی ضرورت کا مہنگا ہونا غریب کے لیے براہِ راست زندگی اور بقا کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ایک مزدور، ایک دیہاڑی دار، ایک بیوہ یا یتیم خاندان کے لیے آٹا مہنگا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بچوں کی تعلیم، علاج اور دیگر بنیادی ضروریات قربان کر دی جائیں۔ حکومت کی جانب سے مہنگائی میں کمی کے دعوے زمینی حقائق سے متصادم دکھائی دیتے ہیں۔ اگر واقعی مہنگائی کم ہو رہی ہے تو پھر آٹا، دال، چاول، تیل اور دیگر بنیادی اشیائے خورو نوش عام آدمی کی پہنچ سے کیوں دور ہوتی جا رہی ہیں؟

آٹے کا یہ بحران محض معاشی نہیں بلکہ حکمرانی کا بحران ہے۔ اگر ریاست چاہے تو گندم کی خریداری کو شفاف بنا سکتی ہے، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف مؤثر کارروائی کر سکتی ہے، فلور ملوں کی کڑی نگرانی کر سکتی ہے اور قیمتوں کو ایک معقول حد میں رکھ سکتی ہے۔ لیکن جب ایسا نہیں ہوتا تو یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ یہ محض نااہلی ہے یا دانستہ چشم پوشی۔ ایک ایسا ملک جو زرعی وسائل سے مالا مال ہو، جہاں گندم کی کاشت وسیع پیمانے پر ہوتی ہو، وہاں آٹے کا بحران ہونا واقعی لمحہ ٔ فکر ہے۔

اس صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ غریب کی آواز کہیں سنی نہیں جاتی۔ ریاست کی بنیادی ذمے داری ہے کہ وہ کمزور طبقے کو تحفظ دے، نہ کہ اسے منڈی کے رحم و کرم پر چھوڑ دے۔ آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے ذمے دار عناصر کا احتساب ہونا چاہیے، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کو مؤثر طور پر روکنا چاہیے اور سبسڈی کا نظام واقعی مستحق افراد تک پہنچنا چاہیے۔ حکمرانوں کو اپنی پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظر ثانی کرنا ہوگی، زمینی حقائق کو تسلیم کرنا ہوگا اور یہ ماننا ہوگا کہ عوام کو درپیش مسائل محض اعداد و شمار سے حل نہیں ہوتے۔ آٹے کی قیمتوں میں کمی کے لیے فوری، عملی اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں، کیونکہ جب تک روٹی سستی نہیں ہوگی، زندگی مہنگی ہی رہے گی، اور مہنگی زندگی غریب کے لیے ناقابل ِ برداشت ہوتی ہے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آٹا صرف خوراک نہیں بلکہ ریاست کی ذمے داری کا پیمانہ ہے۔ جس دن روٹی ہر شہری کی دسترس میں ہوگی، اسی دن کہا جا سکے گا کہ حکومت نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ بصورتِ دیگر آٹے کا یہ بحران ایک سوال بن کر تاریخ میں درج ہو جائے گا اور یہ سوال حکمرانوں کا پیچھا کرتا رہے گا کہ جس ملک میں روٹی میسر نہ ہو، وہاں اقتدار کا اخلاقی جواز کیا رہ جاتا ہے۔

عجب رسم ہے چارہ گروں کی محفل میں
لگا کے زخم نمک سے مساج کرتے ہیں
غریب شہر ترستا ہے اک نوالے کو
امیر شہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں

ضروری ہے کہ حکومت گندم کی خریداری سے لے کر آٹے کی فروخت تک پورے نظام کو شفاف بنائے، فلور ملوں اور ذخیرہ اندوزوں کی کڑی نگرانی کرے اور ناجائز منافع خوری کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کو یقینی بنائے۔ سرکاری نرخ ناموں پر حقیقی عملدرآمد ہو، نہ کہ صرف کاغذی اعلان۔

پروفیسر شاداب احمد صدیقی سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: روپے تک ہے نہیں بلکہ میں ا ٹے یہ ہے کہ جاتا ہے سکتی ہے کی قیمت گندم کی ا ٹے کی ا ٹے کا کے لیے

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف