بین المذاہب ہم آہنگی میں تعمیری کردار کیلئے پاکستان پرعزم: زرداری
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے عالمی ہفتہ بین المذاہب جو یکم تا 7 فروری 2026ء منایا جا رہا ہے، پر پیغام میں کہا کہ پاکستان کے عوام اور عالمی برادری کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ہمارا آئین تمام شہریوں کو، مذہب یا عقیدے سے قطع نظر، مذہبی آزادی اور مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ اصول بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کے وژن کی عکاسی کرتے ہیں، جنہوں نے رواداری، اتحاد اور ہم آہنگی کو پاکستانی قوم کی بنیاد قرار دیا۔ تنازعات، تقسیم اور بڑھتی ہوئی عدم برداشت کے اس دور میں بین المذاہب رابطہ پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے مابین بامعنی روابط، تعلیم اور مکالمہ تعصبات اور غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے ناگزیر ہیں۔ اس موقع پر آئیے ہم بین المذاہب ہم آہنگی کی اقدار کے تحفظ، اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری اور ایک پْرامن دنیا کے لیے مل جل کر کام کرنے کے عزم کی تجدید کریں۔ پاکستان قومی اور بین الاقوامی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور عالمی امن و تفہیم میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لئے پر عزم ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے دنیا بھر سے رواداری، ہمدردی اور پْرامن بقائے باہمی کے عزم کی تجدید کی اپیل کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت میں موجودہ صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لے، جہاں اسلاموفوبیا اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں فروغ پاتی نفرت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت، نفرت اور تقسیم کے اس دور میں مذاہب کے درمیان باہمی احترام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاہب کے درمیان ہم آہنگی انسانیت کی وہ زبان ہے، جو زخموں پر مرہم رکھتی ہے، اعتماد کو فروغ دیتی ہے اور معاشروں کو مضبوط بناتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بین المذاہب ہم ا ہنگی
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔