پشاور کی بلند عمارتوں میں آگ بجھانےکے مکمل انتظامات نہ ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
پشاور میں 2020 سے اب تک مزید 1600 پلازوں کی منظوری دی گئی جن میں تقریباً 100 کثیر المنزلہ عمارتیں بھی ہیں لیکن یہاں بھی حفاظتی اقدامات پر عمل مناسب طریقے سے نہیں ہورہا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی بلند عمارتوں میں بھی آگ بجھانے کے مکمل انتظامات نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ کراچی گل پلازہ میں رونما ہونے والے سانحے نے کئی جانیں نگل لیں اور اب یہی خطرہ پشاور میں بھی موجود ہے جہاں کمرشل پلازوں کی تعداد تقریباً 4 ہزار ہے۔ پشاور میں 2020 سے اب تک مزید 1600 پلازوں کی منظوری دی گئی جن میں تقریباً 100 کثیر المنزلہ عمارتیں بھی ہیں لیکن یہاں بھی حفاظتی اقدامات پر عمل مناسب طریقے سے نہیں ہورہا۔ کراچی گل پلازہ واقعہ کے بعد خیبر پختونخوا حکومت بھی حرکت میں آ گئی جبکہ کمرشل بلڈنگز میں اسٹینڈرڈز کے نفاذ کے لیے متعلقہ حکام کو ذمہ داریاں بھی سونپ دیں۔ ان اسٹینڈرڈز میں انسپیکشن کا جامع نظام، حفاظتی اقدامات اور ایمرجنسی سروسز کا بندوبست شامل ہے۔
کمرشل پلازوں اور ہائی رائزبلڈنگز کے معاینہ کے لیے چند ماہ قبل باقاعدہ خیبر پختونخوا بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنزکے نام سے ایک اتھارٹی بھی قائم کی گئی۔ تاہم یہ اتھارٹی ابھی تک کوئی مؤثر کارروائی نہ کرسکی جبکہ بیشترعمارتوں میں قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اتھارٹی نے دسمبر 2024 میں 68 صفات پر مشتمل اسٹینڈرڈز بھی جاری کیے تھے۔ تجارتی مراکز میں قوانین کی خلاف ورزی پر خیبر پختونخوا بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز اتھارٹی نوٹس جاری کرتی ہے تاہم جرمانہ یا سزا دینا ضلعی انتظامیہ کا اختیار ہوتا ہے۔ نوٹس کے بعد جرمانہ صرف 5 ہزار روپے تک محدود ہے جبکہ چند روز کی قید کا اطلاق بھی کبھی کبھار ہوتا ہے۔
ہائی رائز بلڈنگز میں لازمی آلات میں فائر الارم اور فائر ایکسٹنگوشر سسٹمز،ایمرجنسی ایگزٹ اورایمرجنسی لائٹنگ شامل ہے۔ اسی طرح چھوٹے پلازوں میں بھی بنیادی حفاظتی آلات جیسے فائر الارم، ایگزٹ اور سیفٹی پلان رکھنا لازمی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔