لاہور: 6 تا 8 فروری بسنت کی اجازت، پتنگوں اور ڈور کی فروخت آج سے شروع
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
— فائل فوٹو
لاہور میں بسنت کے لیے پتنگوں اور ڈور کی فروخت آج سے شروع ہوگئی۔ بسنت کے دوران پتنگ سازی یا فروخت کے لیے آن لائن پورٹل پر رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ لاہور میں 6، 7 اور 8 فروری کو بسنت منانے کی مشروط اجازت دی گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوائد و ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔ صرف رجسٹرڈ سیلز پوائنٹس پر ہی پتنگیں اور ڈور مل سکے گی۔
پتنگوں اور ڈور کی خرید و فروخت کے ٹریڈرز کی رجسٹریشن کا عمل 8 فروری تک جاری رہے گا۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ صرف منظور شدہ سائز کی پتنگیں ہی بنائی جائیں گی، کاٹن کے 9 دھاگوں والی ڈور کی اجازت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ چرخی، تیز مانجھا، نائلون یا پلاسٹک کی ڈور استعمال کرنا جرم ہوگا، جبکہ موٹرسائیکل سوار لوہے کی حفاظتی راڈ لگائیں گے۔
اس سے قبل پتنگ بازی کے شوقین بڑی تعداد میں رات 12 بجے سے بھی پہلے اندرون لاہور موچی گیٹ پتنگیں اور ڈور خریدنے جا پہنچے، مگر دکانداروں نے کہا کہ دکانیں صبح کھلیں گی۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق پتنگیں اور ڈور صرف رجسٹرڈ افراد ہی خرید سکیں گے۔
خیال رہے کہ لاہور میں بسنت صرف پتنگ بازی نہیں روزگار سے جڑی ایک صعنت تھی۔ 2007 میں بسنت پر پابندی سے پتنگ سازی اور ڈور کے کاروبار سے وابستہ ڈھیروں خاندان معاشی مشکلات کا شکار رہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بسنت ہر سال منانے کے لیے سب کی ذمے داری ہے کہ حکومت کے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ اور ڈور کی
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔