پاکستان کا خوف: بھارت کے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
بھارت آج اپنا سالانہ بجٹ پیش کرے گا، جس میں مالی سال 2026-27 کے لیے حکومتی منصوبے سامنے آئیں گے۔ معاشی ماہرین توقع کرتے ہیں کہ حکومت مالی خسارہ 4.2 فیصد جی ڈی پی تک محدود رکھے گی اور قرض 49-51 فیصد تک لانے کی کوشش کرے گی، جبکہ مجموعی قرض 16–16.8 ٹریلین روپے تک بڑھ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا امریکی دفاعی بجٹ 1.
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دفاعی وزارت نے پاک بھارت حالیہ مختصر لیکن مہلک تنازع کے بعد فوجی اخراجات میں 20 فیصد اضافے کی درخواست کی ہے اور دفاعی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے قواعد آسان کرنے کا کہا ہے۔
خبر کے مطابق انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 3.1 فیصد پر برقرار رہنے کی توقع ہے، جبکہ ٹیکس اور درآمدی محصولات میں ممکنہ اصلاحات برآمدات کو فروغ دینے کے لیے کی جا سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارت کا جنگی جنون: بڑھتا دفاعی بجٹ خطے میں عدم توازن کا باعث
فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FICCI) نے دفاعی صنعتی کارڈورز، برآمدی پروموشن کونسل اور معاہداتی مینوفیکچرنگ کے لیے ٹیکس قوانین میں ترامیم کی تجویز دی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان کا خوف دفاعی بجٹ رائٹرز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان کا خوف دفاعی بجٹ دفاعی بجٹ کے لیے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔