ٹیکساس: جہاں خواب جاگ اٹھتے ہیں، ستارے گرتے نہیں اور دل پاکستان سے ٹکرا کر بھی دھڑکتے رہتے ہیں! WhatsAppFacebookTwitter 0 1 February, 2026 سب نیوز

ڈلاس، ٹیکساس (شاہ خالدخان )
– تصور کریں… ایک رات جب آسمان ٹیکساس کا سیاہ مخمل بن جائے اور بگ بینڈ کے صحرا میں لاکھوں ستارے جیسے کوئی الماری کھول دی گئی ہو، تو آپ کی آنکھیں حیرت سے پھیل جائیں گی۔ دل چیخ اٹھے گا: “یہ تو بس خواب ہے!” لیکن نہیں… یہ خواب نہیں، یہ ٹیکساس ہے!

یہاں ہل کنٹری کی پہاڑیوں پر جب بہار آتا ہے تو لاکھوں نیلے بلیو بونیٹس جیسے کوئی نیلا سمندر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ گلف کوسٹ کے ساحلوں پر سمندری کچھوؤں کی ماں بچوں کو سکھاتی ہے کہ “بیٹا، زندگی سمندر کی طرح ہے – لہروں سے ڈرنا نہیں، ان کے ساتھ چلنا ہے۔” اور Palo Duro Canyon کی گہرائی میں ہوا جب گنگناتی ہے تو لگتا ہے کوئی قدیم دیوتا ابھی ابھی گانا گا کر سو گیا ہے۔

یہ زمین نہیں، یہ ایک زندہ افسانہ ہے جو ہر صبح نئی کہانی سناتا ہے۔

اور پھر شہر… اوہ شہر! ہیوسٹن جہاں 145 زبانیں ایک ساتھ گنگناتی ہیں جیسے کوئی عالمی کنسرٹ چل رہا ہو۔ آرلنگٹن جو تنوع کی بادشاہت ہے۔ ڈلاس جو رات کو روشنیوں سے جگمگاتا ہے جیسے کوئی ہیروئن اپنی چمک دکھا رہی ہو۔ آسٹن جہاں لائیو میوزک کی دھنوں میں دل ڈوب جاتا ہے۔ یہ شہر نہیں، یہ دنیا کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہیں جو ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں۔

اور اس گلے ملنے میں ایک آواز سب سے بلند ہے – اردو کی آواز!

جی ہاں، ٹیکساس میں پاکستانی کمیونٹی کا جادو الگ ہے۔ ہیوسٹن کی گلیوں میں بریانی کی خوشبو، ڈلاس کی مساجد سے اذان کی گونج، آرلنگٹن کے پارکس میں کرکٹ کے میچ جہاں “چھکا!” کی آواز پاکستان کو یاد دلا دیتی ہے۔ عید پر رنگ برنگی لباس، یوم آزادی پر جھنڈے لہراتے، بسنت پر ہلدی اور گلیوں میں رقص… یہ سب ٹیکساس کو پاکستان کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بنا دیتا ہے۔

اردو یہاں زندہ ہے، سانس لیتی ہے۔ گھروں میں ماں بچوں کو کہانیاں سناتی ہے، دکانوں پر “بھائی صاحب، کیا حال ہے؟” کی آواز گونجتی ہے، کمیونٹی سینٹرز میں غالب اور فیض کی شاعری پڑھی جاتی ہے۔ یہ زبان صرف لفظ نہیں، یہ دل کا رشتہ ہے جو ہزاروں میل دور بھی پاکستان سے جوڑے رکھتی ہے۔

اور میں… میں اس کہانی کا ایک چھوٹا سا کردار ہوں۔

15 مارچ 2023 کو جب میں اپنی فیملی کے ساتھ پاکستان سے ٹیکساس آیا تھا، تو دل میں صرف ایک خوف تھا: “کیا یہاں ہم گھر محسوس کریں گے؟”

آج وہی دل چیخ کر کہتا ہے: “یہاں سے زیادہ گھر کہیں نہیں!”

میں ڈیلی سب نیوز کے ساتھ امریکہ میں منسلک ہوں – اردو میں پاکستانی کمیونٹی کو خبریں، تجزیے اور کہانیاں پہنچاتا ہوں۔ سینکڑوں ایونٹس کور کیے: T20 ورلڈ کپ کے وہ سنسنی خیز لمحات ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کی دل دہلا دینے والی میچز، اور سب سے بڑھ کر 2024 کے امریکی صدارتی الیکشن – جہاں میں نے ٹرمپ کی واپسی کو قریب سے دیکھا، مہم جوئی کی، نتائج کی رپورٹنگ کی اور راتوں کو جاگ کر لکھا کہ “امریکہ بدل رہا ہے”۔

یہ سب کرتے ہوئے میں نے سیکھا کہ صحافت صرف خبر نہیں، یہ لوگوں کی آواز ہے، ان کی جدوجہد ہے، ان کی امید ہے۔

لیکن ایک زخم اب بھی تازہ ہے: ٹیکساس میں کم سے کم اجرت اب بھی $7.

25 فی گھنٹہ پر جمود کا شکار ہے۔ 2009 سے کوئی تبدیلی نہیں! جبکہ دنیا بھر کی ریاستیں $15، $16، $17 تک پہنچ چکی ہیں، ٹیکساس کے لاکھوں محنت کش – جن میں ہمارے بہت سے پاکستانی بھائی بہن بھی شامل ہیں – آج بھی 17 سال پرانی تنخواہ پر گزارہ کر رہے ہیں۔ رہائشی اخراجات آسمان چھو رہے ہیں، بچوں کی فیس، گھر کا کرایہ، دوائی… سب کچھ مہنگا، مگر اجرت وہی پرانی!

یہ ناانصافی ہے۔ یہ درد ہے۔ اور یہ درد بدلنا چاہیے۔

کیونکہ ٹیکساس صرف تیل اور ٹیک کی ریاست نہیں، یہ محنت کشوں کی ریاست ہے۔ یہ ان لوگوں کی ریاست ہے جو خواب لے کر آتے ہیں اور محنت سے انہیں سچ کرتے ہیں۔

تو آئیے، ٹیکساس کی اس خوبصورتی کو، اس تنوع کو، اس پاکستانی دل کو، اس اردو کی آواز کو اور اس محنت کو سلام کریں۔

اگر آپ کبھی یہاں آئیں تو صرف دیکھنے نہیں آئیں… محسوس کرنے آئیں۔ کیونکہ یہاں ہر سانس میں پاکستان کی خوشبو ہے، ہر دھڑکن میں امید ہے، اور ہر کہانی میں ایک نیا آغاز چھپا ہے۔

(شاہ خالد خان – ایک پاکستانی دل، ٹیکساس کی روح، اردو کی آواز اور ڈیلی سب نیوز کا فخریہ نمائندہ)

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعالمی بینک کے صدر اجے بنگا پاکستان پہنچ گئے، دس سالہ پارٹنرشپ پر پیشرفت متوقع اوورسیز پاکستانی اور او پی ایف: ایک خاموش المیہ ڈیووس کی آواز چبوترے سے اٹھتی آوازیں: پچوانہ میں مکالمہ اور معافی کی روایت سوئٹزرلینڈ: ہوا سے چلنے والی برقی توانائی قطبِ شمالی میں طاقت کا نیا کھیل گُل پلازہ: آتشزدگی اور اجتماعی بےحسی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: پاکستان سے

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • شہرِ دل رُبا۔۔۔۔ راول پنڈی (تیسرا اور آخری حصہ)
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف