40 گھنٹوں میں 145 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا جن کی لاشیں بھی ہمارے پاس ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبے میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کی تفصیلات پیش کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات کے بارے میں ہمیں پہلے سے خبر تھی، اس لیے ایک دن پہلے ہی آپریشنز شروع کیے، عسکریت پسندوں کا خیال تھا کہ وہ پنجگور، شبان اور کوئٹہ کے شمالی مشرقی علاقوں میں حملے کریں گے، لیکن سیکیورٹی فرسز کی کوششوں کی وجہ سے وہاں حملے نہیں ہوئے۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ 40 گھنٹوں میں 145 عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا ہے جن کی لاشیں بھی ہمارے پاس ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اتنے کم عرصے میں اتنی زیادہ ہلاکتیں ایک دن میں نہیں ہوئی تھیں، پورے سال میں 1500 سے زائد دہشتگرد مارے گئے تھے۔
سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ان واقعات میں سب سے دردناک واقعہ گوادر میں پیش آیا جہاں ایک خضدار سے تعلق رکھنے والے بلوچ گھرانے کو دہشتگردوں نے شہید کردیا، جن میں 5 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں، یہ قومیت کی جنگ نہیں دہشت کی جنگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے لیڈر نے اسے آزادی کی جنگ قرار دی ہے لیکن ایک یونین کونسل کو بھی آزاد نہیں کراسکتے،
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں شہید ہونے والوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ان کے لواحقین کے دیکھ بھال کی ذمہ داری ہماری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں