اپنی پسند کی نمبر پلیٹس، محکمہ ایکسائز نے گاڑی مالکان کو خوشخبری سنا دی
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پشاور میں محکمہ ایکسائز خیبر پختونخوا نے مزید 40 چوائس نمبر پلیٹس کی نیلامی کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق محکمہ ایکسائز کاکہنا ہے کہ چوائس نمبر پلیٹس کی نیلامی 14 فروری کو کی جائے گی، نیلامی میں سید، قادری، جتوئی، راجہ، پشتون سمیت دیگر چوائس نمبر پلیٹس پیش کی جائیں گی۔
اس کے علاوہ خیبر، بونیر، مہمند، کوہاٹ اور دیگر اضلاع کے نام سے منسوب نمبر پلیٹس بھی نیلامی کے لیے رکھی جائیں گی۔
محکمہ ایکسائز کے مطابق ایک منفرد چوائس نمبر پلیٹ کے لیے بولی کی بنیادی رقم 10 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، اگر کسی چوائس نمبر پلیٹ کے لیے بولی دہندگان کی تعداد تین سے کم ہوئی تو اس نمبر کی نیلامی ملتوی کر دی جائے گی۔
تیسرا ٹی ٹوئنٹی: پاکستان کا آسٹریلیا کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
محکمہ ایکسائز نے کہا کہ بولی میں حصہ لینے کے خواہش مند افراد سے ایک لاکھ روپے بطور سیکیورٹی رقم وصول کی جائے گی جبکہ کامیاب بولی دہندہ کو نیلامی کے فوراً بعد مکمل رقم ادا کرنا لازمی ہوگا۔
محکمہ ایکسائز خیبر پختونخوا کے مطابق نیلامی کے تمام مراحل شفاف طریقے سے مکمل کیے جائیں گے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: محکمہ ایکسائز نمبر پلیٹس چوائس نمبر
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔