جینے دو کراچی مارچ: جماعت اسلامی نے مارچ کا مکمل نقشہ جاری کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:جماعت اسلامی کراچی کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ شہر میں آج ہونے والے ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور مارچ کا باقاعدہ روٹ پلان اور انتظامی نقشہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق اس عظیم الشان عوامی مارچ کا مقصد کراچی کے شہریوں کو درپیش بنیادی مسائل، بدانتظامی اور ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہے، مارچ کا مرکزی اسٹیج شارع فیصل پر نرسری پیڈسٹرین برج کے قریب قائم کیا گیا ہے، جہاں سے مرکزی قیادت شرکاء سے خطاب کرے گی۔ اسٹیج کے اطراف سیکیورٹی اور نظم و ضبط کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ شارع فیصل کی دو رویہ سڑک کو منظم انداز میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کے تحت ایک جانب خواتین جبکہ دوسری جانب مردوں کے لیے علیحدہ انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ شرکاء کو سہولت اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
مختلف اضلاع سے آنے والے شرکاء کے لیے واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں،ضلع ملیر، ایئرپورٹ اور ضلع شرقی کے شہریوں کو ڈرگ روڈ کے راستے شارع فیصل پہنچنے کی ہدایت دی گئی ہے،ضلع وسطی، غربی اور کیماڑی کے کارکنان کو اسٹیڈیم روڈ کے ذریعے مارچ میں شرکت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے،ضلع جنوبی اور مرکزی قائدین کے کارکنان فوزیہ وہاب فلائی اوور کے راستے شارع فیصل پر آئیں گے۔
ضلع سائٹ، لیاری عربی اور کورنگی کے کارکنان کو بلوچ کالونی پل کے ذریعے مارچ میں شامل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے،اسی طرح ضلع شرقی، گلبرگ وسطی اور شمالی کے کارکنان کو رشد منہاس روڈ سے مارچ میں پہنچنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
ترجمان کے مطابق میڈیا نمائندگان کے لیے مرکزی اسٹیج کے پچھلے حصے میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کوریج میں آسانی رہے۔ اس کے علاوہ شارع فیصل کے دونوں اطراف مرکزی کیمپس قائم کیے گئے ہیں، جہاں ہنگامی طبی امداد کے انتظامات موجود ہوں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایمبولینسز دونوں اطراف الرٹ رہیں گی جبکہ شرکاء کی سہولت کے لیے موبائل واش رومز بھی شارع فیصل کے دونوں جانب نصب کیے گئے ہیں۔
جماعت اسلامی کے ترجمان نے کراچی کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں، مقررہ راستوں پر چلیں اور پرامن انداز میں جینے دو کراچی مارچ میں بھرپور شرکت کر کے اپنے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیے گئے ہیں کے کارکنان شارع فیصل مارچ کا کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔