بلوچستان میں دہشت گردی،سعودی عرب اور قطر سمیت دیگر ممالک کی مذمت WhatsAppFacebookTwitter 0 1 February, 2026 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی پر دیگر ممالک کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے واقعے کی بھرپور مذمت کی ہے۔فتتنہ الہندوستان کے حمایت یافتہ دہشت گردوں نے 31 جنوری کو بلوچستان کے مختلف شہروں میں امن خراب کرنے کی کوشش کی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ان حملوں کا مقصد شہریوں کو نشانہ بنا کرصوبے میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگردوں کے حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 18 بے گناہ شہری شہید ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے 15 بہادر سپوتوں نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ جوابی کارروائی میں فتن الہندوستان کے تین خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گرد مارے جاچکے ہیں۔سعودی عرب نے بھی بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کی بھرپور مذمت کی ہے۔سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کی پرتشدد کارروائیوں پر تشویش ہے، پاکستانی فورسز دہشت گردی کے خلاف بہترین حکمت عملی کے ساتھ مقابلہ کر رہی ہیں۔سعودی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی حکومت اور عوام کے ساتھ ہیں۔ادھر قطر نے بھی بلوچستان میں دہشتگردی سے متعلق مزمتی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا کہ ریاستِ قطر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پیش آنے والے ان حملوں کی سخت مذمت کرتی ہے جن کے نتیجے میں جانی نقصان اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔قطری وزارتِ خارجہ اس امر کا اعادہ کرتی ہے کہ ریاستِ قطر ہر قسم کے تشدد، دہشت گردی اور مجرمانہ کارروائیوں کو، ان کے محرکات یا جواز سے قطع نظر، مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ وزارتِ خارجہ متاثرین کے اہلِ خانہ کے ساتھ دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتی ہے، نیز حکومتِ پاکستان اور عوامِ پاکستان سے بھی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کرتی ہے۔پاکستان میں قائم برطانوی ہائی کمیشن نے بلوچستان واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔برطانوی ہائی کمیشن نے ایکس پر جاری پیغام میں لکھا کہ برطانیہ بلوچستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ہائی کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ ہماری ہمدردیاں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا، اور جو ان واقعات سے متاثر ہوئے۔ ہم دہشت گردی کو مسترد کرنے اور امن و سلامتی کے لیے اپنے مشترکہ عزم میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔وہیں ترک وزارتِ خارجہ نے بھی بلوچستان میں فتتنہ الہندوستان کی طرف کی کی جانے والی دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔ترک وزارتِ خارجہ نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ترکیہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی سخت مذمت کرتا ہے۔ہم شہید ہونے والے پاکستانی افواج کے جوانوں کے لیے اللہ سے رحمت کی دعا کرتے ہیں اور پاکستان کی عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ترک وزارتِ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی جاری رکھیں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفرانس کے سفارتخانے کی بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی سخت مذمت، متاثرین سے اظہار یکجہتی فرانس کے سفارتخانے کی بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی سخت مذمت، متاثرین سے اظہار یکجہتی ایرانی سفارتخانے کی پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت قیامِ امن کیلئے سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں ، چوہدری شجاعت حسین بلوچستان حملوں میں شدت پسندوں نے دو خواتین کو بھی استعمال کیا، خواجہ آصف کا دعویٰ بلوچستان میں 17 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، 145 دہشتگردوں کی لاشیں ہمارے پاس ہیں: سرفراز بگٹی آئندہ چند برسوں میں پاکستان کے ساتھ تجارت دگنی کی جائے گی: تھائی سفیر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: بلوچستان میں دہشت دہشت گرد حملوں کی حملوں کی سخت مذمت دہشت گردی کے میں پاکستان پاکستان کے مذمت کی ہے کا اظہار کے ساتھ کی مذمت کرتی ہے میں کہا کے لیے

پڑھیں:

بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین کی جمعیت الوفاق الوطني الاسلامی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے ایک ایسے اقدام کے ذریعے، جسے اس جماعت نے خطرناک اور جبری قرار دیا ہے، جعفری اوقاف ادارے کو تحلیل کرکے اسے ایک ایسے کونسل میں ضم کر دیا ہے جو سیاسی اقتدار کے زیرِ اثر کام کرتی ہے۔ جمعیت الوفاق کے مطابق یہ اقدام شرعی احکام میں مداخلت، آئین کی خلاف ورزی اور ملک میں مذہبی آزادیوں سے متعلق رائج اصولوں اور روایات پر حملہ ہے۔ الوفاق نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران بحرین یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس نوعیت کی مداخلت کی مثال نہیں ملتی۔ جماعت کے مطابق حکومت نے علاقائی حالات، کشیدگیوں اور جنگی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعفری مکتبِ فکر کی مذہبی شخصیات، اداروں اور اوقافی املاک پر قبضے اور مداخلت کی راہ اختیار کی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ جمعیت الوفاق نے مزید کہا کہ یہ اقدامات شرعی ضوابط کی کھلی اور ناقابلِ قبول خلاف ورزی ہیں، اور انہیں ایسے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے جن کا مقصد شہریوں کو احتجاج اور مخالفت سے روکنا ہے۔ جمعیت کے مطابق حکومت نے ان غیر قانونی اقدامات کے لیے پہلے ہی ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جو غیر اعلانیہ ہنگامی حالت سے مشابہ تھا اور جس میں سکیورٹی دباؤ کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا تھا۔ 

بیان میں کہا گیا کہ یہ سلسلہ سید محمد الموسوی کی مبینہ طور پر دورانِ حراست شہادت اور ان کے جسدِ خاکی کی حوالگی سے شروع ہوا، جس پر تشدد کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے بعد بعض خاندانوں کی شہریت منسوخ کرنے، انہیں جبری ہجرت پر مجبور کرنے، مختلف علاقوں سے درجنوں علماء کی گرفتاری اور ان کی تصاویر کی تشہیر جیسے اقدامات سامنے آئے، جنہیں جمعیت نے انتقامی کارروائیاں قرار دیا۔ اسی طرح متعدد مساجد کو ائمہ جماعت سے محروم کرنے، دینی مدارس، حوزاتِ علمیہ اور مذہبی منبروں کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔

جمعیت الوفاق کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ پالیسی دراصل ملک کی دینی اور سماجی ساخت پر حملے، اداروں کی بندش، املاک کی ضبطی اور ان کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرکے ایک "سکیورٹی اور جابرانہ نظم" نافذ کرنے کی تمہید ہے، جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے اور شرعی، سماجی، قانونی و انسانی اصولوں کی کوئی پاسداری نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فرمان نمبر (31) برائے سال 2026 ایک سیاسی نوعیت کا جبری فیصلہ ہے جو عوامی رضامندی کے بغیر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف بحرین کے ایک تاریخی اور اصیل ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ ایک ایسا زبردستی کا تغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو صدیوں پر محیط بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

جمعیت کے مطابق تاریخ اس اقدام کو بحرینی حکومت کی سب سے بڑی غلطیوں میں شمار کرے گی، کیونکہ یہ فطرت، دین، آزادی اور قانون کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ الوفاق نے زور دیا کہ یہ جبری فرمان ہزاروں اوقاف کی خیانت اور غصب کے مترادف ہے، جو مخصوص شرعی عناوین اور شرائط کے تحت وقف کیے گئے تھے اور جن میں سیاسی مداخلت یا ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وقف کا شرعی اور قانونی تشخص کسی حکومتی حکم یا فرمان سے تبدیل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس سلسلے میں کیے گئے تمام اقدامات باطل اور شرعی و قانونی جواز سے محروم ہیں۔

جمعیت الوفاق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فرمان کو فوری طور پر واپس لے اور آمریت، ہٹ دھرمی اور ایسے منصوبے پر اصرار ترک کرے جو صرف طاقت، خوف اور شرعی احکام کی مخالفت کے سہارے ہی جاری رکھا جا سکتا ہے۔ جمعیت کا مزید کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اوقاف کو ایسے انتظامی ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش، جسے مذہبی حلقے قبول نہیں کرتے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے سیاسی نظام کو ازسرِ نو متعین کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نظام شراکت داری، جوازِ حکمرانی اور قومی ہم آہنگی کی بنیادی خصوصیات سے محروم ہو چکا ہے۔ بیان کے اختتام پر جمعیت الوفاق نے ایک "نئے سماجی معاہدے" کی تشکیل کا مطالبہ کیا، جو عوامی اور قانونی بنیادوں پر استوار ہو، تمام شہریوں اور سماجی طبقات کے حقوق کی ضمانت دے اور ان کے مستقبل، شناخت اور آزادیوں کے حوالے سے اعتماد اور اطمینان کو مضبوط بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت