پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں جنگ بندی کی اسرائیل کی بار بار خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی ہے،
جن کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔


درفتر خارجہ سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں اور امن و استحکام کی بحالی کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ایسے وقت میں جب علاقائی اور بین الاقوامی فریق اجتماعی طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عملدرآمد کے لیے کام کر رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی کی یہ مسلسل خلاف ورزیاں سیاسی عمل کے لیے براہ راست خطرہ ہیں اور غزہ کی پٹی میں سیکیورٹی اور انسانی بنیادوں پر زیادہ مستحکم مرحلے کی جانب منتقلی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی جاری کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے مکمل وابستگی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

بیان میں تمام فریقوں پر زور دیا گیا کہ وہ اس نازک مرحلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ جنگ بندی کو برقرار رکھا جا سکے، ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا جائے جو موجودہ عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہو، اور جلد بحالی و تعمیر نو کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سازگار حالات پیدا کیے جا سکیں۔

وزرائے خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایک منصفانہ اور دیرپا امن کا قیام فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور ریاستی حیثیت کی بنیاد پر، بین الاقوامی قانون، متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عرب امن اقدام کے مطابق ہونا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت