علی ہجویری کا مزار روحانی سکون، برداشت اور ہم آہنگی کا عظیم مرکز ہے، نوازشریف
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
علی ہجویری کا مزار روحانی سکون، برداشت اور ہم آہنگی کا عظیم مرکز ہے، نوازشریف WhatsAppFacebookTwitter 0 1 February, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )سابق وزیر اعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ علی ہجویری کا مزار روحانی سکون، برداشت اور ہم آہنگی کا عظیم مرکز ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں مسلم لیگ ن کے صدر نوازشریف نے حضرت داتا گنج بخش کے مزار پر حاضری دی، ان کے ساتھ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی نوازشریف کے ہمراہ تھے۔
اِس موقع پر گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ حضرت علی ہجویری کا مزار روحانی سکون، برداشت اور ہم آہنگی کا عظیم مرکز ہے، اور اس مقدس مقام پر آنے والے زائرین کی خدمت ایک قومی ذمہ داری ہے۔صدر مسلم لیگ ن نے اِس امر پر زور دیا کہ زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات، سکیورٹی، صفائی اور سہولت کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور داتا دربار کے تقدس، تاریخی ورثے اور روحانی ماحول کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔نوازشریف کا کہنا تھا کہ ہر سال ملک بھر سے اور بیرونِ ملک سے لاکھوں زائرین داتا دربار آتے ہیں، اور حکومت اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ زائرین کو جدید سہولیات فراہم کی جائیں جبکہ مزار کی مذہبی اور ثقافتی اہمیت کو مکمل طور پر برقرار رکھا جائے۔اس سے قبل میاں نواز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مزار پر فاتحہ خوانی کی، چادر چڑھائی اور پھول نچھاور کیے، انہوں نے ملک اور قوم کے امن، سلامتی، خوشحالی اور استحکام کے لیے دعا بھی کی۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ داتا دربار کی توسیع و ترقی کا منصوبہ ایک اہم اور تاریخی منصوبہ ہے جس کا مقصد لاکھوں زائرین کو سہولیات فراہم کرنا ہے، ایسے منصوبے مذہبی ورثے کے تحفظ اور عوام کو جدید و بہتر خدمات فراہم کرنے کے حکومتی ویژن کی عکاسی کرتے ہیں۔مزار حاضری پر سیکرٹری/چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا، اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل اوقاف شاہد کلیانی، ایڈمنسٹریٹر محمد علی خان سمیت دیگر افسران اور منیجرز بھی موجود تھے۔ڈاکٹر احسان بھٹہ نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو داتا دربار کے توسیعی منصوبے اور جاری ترقیاتی کاموں کی تازہ ترین پیش رفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کام کے معیار اور رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ اور ان کی پوری ٹیم کی کارکردگی کو سراہا اور اس اہم منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے ان کی محنت، لگن اور وابستگی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآسٹریلیا نے افغان سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان کردیا آسٹریلیا نے افغان سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان کردیا بلوچستان میں دہشت گردی،سعودی عرب اور قطر سمیت دیگر ممالک کی مذمت فرانس کے سفارتخانے کی بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی سخت مذمت، متاثرین سے اظہار یکجہتی ایرانی سفارتخانے کی پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت قیامِ امن کیلئے سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں ، چوہدری شجاعت حسین بلوچستان حملوں میں شدت پسندوں نے دو خواتین کو بھی استعمال کیا، خواجہ آصف کا دعویٰCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: برداشت اور ہم آہنگی کا عظیم مرکز ہے علی ہجویری کا مزار روحانی سکون
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔