پمز اسپتال سے واپسی کے بعد عمران خان کی صحت کیسی ہے؟ عطااللہ تارڑ نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی مرضی سے انہیں پمز اسپتال لایا گیا تھا، اب وہ صحت مند ہیں اور انہیں کوئی مسئلہ نہیں۔
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ کا معمولی سا پروسیجر تھا جو ہوگیا۔
عمران خان کی رضامندی لینے کے بعد پمز لایا گیا۔ وہ اب صحت مند ہیں اور انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ایک معمولی آنکھ کا پروسیجر تھا۔ عطا تارڑ pic.
— WE News (@WENewsPk) February 1, 2026
واضح رہے کہ کچھ روز قبل بانی پی ٹی آئی عمران خان کو چیک اپ کے لیے سخت سیکیورٹی میں پمز اسپتال لایا گیا، تاہم اس سارے معاملے کو خفیہ رکھا گیا۔
رپورٹس کے مطابق عمران خان کو آنکھوں کی بیماری کی تشخیص ہوئی ہے، جس کے بعد ان کا علاج جاری ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ہمیں عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش لاحق ہے، اس لیے ذاتی معالج کو ان تک رسائی دی جائے۔
مزید پڑھیں: پمز میں عمران خان کا معائنہ کیسے ہوا؟ اسپتال انتظامیہ نے تفصیلات جاری کردیں
یاد رہے کہ کچھ عرصے سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ملاقاتوں پر بھی پابندی عائد ہے، اور حکومت کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی جیل میں بیٹھ کر سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آنکھوں کی بیماری بانی پی ٹی آئی پی ٹی آئی تشخیص تشویش عمران خان وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آنکھوں کی بیماری بانی پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی تشویش وی نیوز بانی پی ٹی ا ئی عمران خان عمران خان کی
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔