نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ بلوچستان کی ترقی اور سرمایہ کاری کا نیا سنگ میل
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ 4300 ایکڑ رقبے پر محیط پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا ہوائی اڈہ ہے اور اس پر مختلف قسم کے طیارے لینڈ اور ٹیک آف کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: نیوگوادرانٹرنیشنل ایئرپورٹ تجارت اور رابطوں کو آسان بنانے میں مصروف عمل
ان طیاروں میں اے ٹی آر 72، بوئنگ 737، بوئنگ 747 اور ایئر بس اے 380 شامل ہیں۔
اس ایئرپورٹ کی توسیع گوادر کو تجارتی، رابطہ کاری اور سرمایہ کاری کے لیے ایک علاقائی مرکز میں تبدیل کرنے کے عمل میں اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
کراچی سے آنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 503 کی کامیاب لینڈنگ کے بعد 2025 میں نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تجارتی پروازوں کا باقاعدہ آغاز جو جو بلوچستان کی ترقی کے نئے مرحلے کی علامت ہیں۔
جیسے جیسے ہوائی نقل و حمل میں اضافہ ہوگا اور بین الاقوامی دلچسپی بڑھے گی، نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ صوبے میں اقتصادی سرگرمیوں کو تیز کرے گا، روزگار کے مواقع پیدا کرے گا اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرے گا۔
یہ ایئرپورٹ پاکستان کو عالمی مارکیٹوں تک بہتر رسائی فراہم کرکے گوادر کو تجارتی اور ٹرانزٹ کے اہم مرکز کے طور پر مستحکم کرتا ہے۔
یہ تیز رفتار ترقی بھی وضاحت کرتی ہے کہ کیوں دشمن قوتیں، خاص طور پر فتنہ الہندوستان اور ان کے مقامی ایجنٹس بلوچستان میں ترقی کے مخالف ہیں۔
مزید پڑھیں: نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہلی پرواز لینڈ کر گئی، وزیر دفاع خواجہ آصف نے مسافروں کا استقبال کیا
ان عناصر کا مقصد حقوق یا فلاح نہیں بلکہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا اور مقامی عوام کو جدید بنیادی ڈھانچے، اقتصادی مواقع اور بہتر معیارِ زندگی سے محروم رکھنا ہے۔
نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ اس منصوبے کے برعکس ترقی، یکجہتی اور خوشحالی کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ترقی سرمایہ کاری نیا سنگ میل نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری نیا سنگ میل نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ وی نیوز نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ
پڑھیں:
گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
سکردو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کی ترقی مسلم لیگ (ن) کی اولین ترجیح ہے اور انہیں ملک کے دیگر صوبوں کی طرح مکمل آئینی اور بنیادی حقوق ملنے چاہئیں۔(جاری ہے)
جی بی ای-8 سکردو-2 میں انتخابی مہم کے سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار حاجی اکبر تابان کی رہائش گاہ پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آ کر عوام کی محرومیاں ختم کرے گی اور گلگت بلتستان کے حقوق کیلئے پارلیمنٹ میں مؤثر آواز اٹھائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور خطے میں بجلی کے نئے منصوبے متعارف کرائے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، پاکستان کے قیام کا جو مقصد تھا، اسے پورا کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے اور بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست الزام تراشی نہیں بلکہ دلیل، خدمت اور عوامی ترقی کی سیاست ہے۔