استنبول میں امریکی قونصل خانے کے سامنے ایران کی حمایت میں ریلی
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اجتماع میں ترک شہریوں اور سیاسی و سماجی کارکنوں نے شرکت کی، شرکاء نے ایران، ترکی، فلسطین اور حزب اللہ کے جھنڈے اور حمایتی نعروں والے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور گہرے تاریخی، ثقافتی اور علاقائی تعلقات پر زور دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ترک شہریوں کا ایک گروپ استنبول میں امریکی قونصل خانے کے سامنے ایران اور علاقائی مزاحمت کی حمایت میں جمع ہوا۔ تسنیم نیوز کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق آج اتوار کے دن ترک عوام کے ایک گروپ نے استنبول میں امریکی قونصل خانے کے سامنے ایک علامتی اور پرامن انداز میں جمع ہوکر ایرانی قوم اور مزاحمتی محاذ کی حمایت کا اعلان کیا۔ اس اجتماع میں ترک شہریوں اور سیاسی و سماجی کارکنوں نے شرکت کی، شرکاء نے ایران، ترکی، فلسطین اور حزب اللہ کے جھنڈے اور حمایتی نعروں والے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور گہرے تاریخی، ثقافتی اور علاقائی تعلقات پر زور دیا۔ انہوں نے مزاحمتی محاذ کے انصاف پسند اور آزادی کے متلاشی نظریات کے ساتھ اپنی یکجہتی کا بھی اظہار کیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا: ہم ایک قوم ہیں، ہم بھائی ہیں اور جیتیں گے،امریکہ مردہ باد، مزاحمتی محاذ امت کا محاذ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے ایران
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔