آسٹریلین اوپن کے فائنل میں اسپین کے کارلوس الکاراز گارفیا نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد نواک جوکووچ کو شکست دے کر اپنے کیریئر کا پہلا آسٹریلین اوپن ٹائٹل جیت لیا۔

یہ بھی پڑھیں: علی سسٹرز سمیت 5 پاکستانیوں نے آسٹریلین جونیئر اوپن لوٹ لیا، 4 گولڈ اور ایک سلور میڈل ملک کے نام

 میچ کے آغاز میں دونوں کھلاڑیوں نے محتاط کھیل پیش کیا، تاہم ابتدائی بریک پوائنٹ حاصل کرنے کے بعد جوکووچ نے پہلے سیٹ میں واضح برتری حاصل کر لی اور 33 منٹ میں سیٹ اپنے نام کیا۔

دوسرے سیٹ میں الکاراز نے جارحانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے کھیل کا رخ بدل دیا، رفتار تیز کی اور دباؤ جوکووچ پر منتقل کر دیا۔ تیسرے سیٹ میں دونوں کے درمیان شاندار دیکھنے کو ملیں، مگر الکاراز زیادہ پراعتماد دکھائی دیے اور سیٹ جیتنے میں کامیاب رہے۔

چوتھے سیٹ میں جوکووچ نے بھرپور مزاحمت کی اور کئی بریک پوائنٹس بچا کر مقابلے میں رہنے کی کوشش کی، تاہم الکاراز نے مستقل دباؤ برقرار رکھا اور فیصلہ کن گیم میں کامیابی حاصل کر کے میچ ختم کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: آسٹریلین اوپن میں کامیابی، جنک سنر 3 گرینڈ سلیم حاصل کرنے والے پہلے اطالوی کھلاڑی بن گئے

اس فتح کے ساتھ الکاراز نے پہلی بار آسٹریلیا میں گرینڈ سلام جیتنے کا اعزاز حاصل کیا اور عالمی نمبر ایک پوزیشن بھی برقرار رکھی، جبکہ یانک سینر دوسرے اور نواک جوکووچ تیسرے نمبر پر آگئے۔

میچ کے بعد دونوں کھلاڑیوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی، جسے ٹینس کی دنیا میں قیادت کی منتقلی کا لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔

الکاراز نے کہا کہ یہ کامیابی ان کے لیے بے حد اہم ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلسل محنت رنگ لاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر گرینڈ سلام جیتنا مشکل ہوتا ہے، اسی لیے وہ ہر کامیابی سے بھرپور لطف اٹھانا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ماہ نور علی نے سنگاپور جونیئر اسکوائش اوپن چیمپیئن شپ جیت لی

دوسری جانب نواک جوکووچ نے شکست کے باوجود شائقین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ آئندہ برس آسٹریلین اوپن میں واپسی ہو گی یا نہیں، تاہم آسٹریلیا میں گزارا گیا وقت ان کے کیریئر کا یادگار حصہ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسپین آسٹریلین اوپن اسکواش ٹائٹل جوکووِچ کارلوس الکاراز کھیل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسپین ا سٹریلین اوپن اسکواش ٹائٹل جوکوو چ کارلوس الکاراز کھیل آسٹریلین اوپن الکاراز نے سیٹ میں

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی