ٹی20 ورلڈ کپ 2026: سری لنکا نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
سری لنکا نے بھارت اور سری لنکا میں 7 فروری سے شروع ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے لیے اپنے 15 رکنی اسکواڈ اعلان کردیا۔
سری لنکن ٹیم کی سربراہی داسون شناکا کریں گے، اس کے علاوہ اسکواڈ میں پاتھم نسانکا، کوشل مینڈس، کامینڈو مینڈس، چریتھ اسلنکا، جنیتھ لیاناگے شامل ہیں۔
View this post on Instagram
A post shared by CricTracker (@crictracker)
اسکواڈ میں ہسارنگا، ڈی ویللاجے، مہیش تھیکشنا، چمیرا، ایشان ملنگا، متھیشا پتھیرانا اور دیگر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ کا آغاز 7 فروری کو ہو رہا ہے، ٹورنامنٹ بھارت اور سری لنکا میں کھیلا جائےگا۔
دوسری جانب پاکستان نے تمام تر تحفظات کے باوجود آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسکواڈ کا اعلان ٹی20 ورلڈ کپ سری لنکا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکواڈ کا اعلان ٹی20 ورلڈ کپ سری لنکا وی نیوز ٹی20 ورلڈ کپ سری لنکا
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔