Express News:
2026-07-24@02:13:28 GMT

کیا جنگ کے بادل چھٹ رہے ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT

صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہر گزرتے لمحے ایران پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ تباہ کن بحری بیڑے خطے میں جنگی مشقیں کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے جنگ میں کوئی دم کا فاصلہ ہے۔ ایسے میں مجھے آقائے رضا امیری مقدم کی یاد آ رہی ہے۔ اتفاق ایسا رہا ہے کہ ان سے پے در پے کئی ملاقاتیں ہو گئیں۔

ایک ملاقات میں فارسی کے ممتاز استاد، جامعہ پنجاب کے سابق وائس چانسلر اور ادارہ فروغ قومی زبان کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر شریک تھے اور دوسری ملاقات میں برادر محترم خورشید احمد ندیم اور علامہ عارف حسین واحدی اور دیگر احباب ۔ اول الذکر نیشنل رحمۃ اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی کے چیئرمین ہیں اور دوسرے بزرگ اس قومی ادارے کے رکن۔ یہ ملاقات اتھارٹی کے صدر دفتر میں ہوئی جس کا ایرانی سفیر نے دورہ کیا۔ ان مواقع پر آقائے رضا امیری مقدم سے جو باتیں ہوئیں، ان کا تعلق تازہ حالات سے نہیں البتہ ان کی مدد سے مستقبل کے خدشات اور کسی تصادم کے ممکنہ نتائج کو سمجھنے میں مدد ضرور مل سکتی ہے۔

کیا جنگ ہونے جا رہی ہے؟ اس سوال کا جواب تو شاید کسی کے پاس نہیں۔ یوں یہ صدر ٹرمپ کی مرضی پر ہے کہ وہ کس وقت کیا کہہ دیں اور جو کچھ کہہ رکھا ہے، اگلے لمحے بالکل اس کے بالکل الٹ کردیں لیکن اس کے باوجود صورت حال کو سمجھنے کے لیے ان کی باتیں وزن رکھتی ہیں۔ اس ضمن میں تازہ بات انھوں نے یہی کہی ہے کہ وہ ایران پر فوجی دباؤ بڑھا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ تصادم کے خواہش مند نہیں ہیں۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران غیر مسلح ہو جائے۔ غیر مسلح ان معنوں میں کہ ایٹمی اسلحہ اس کے پاس ہو اور نہ اس کے پاس امریکا اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت ہونی چاہیے یعنی امریکا یہ چاہتا ہے کہ اسرائیل محفوظ رہے اور مشرق وسطی میں اس کے امریکی اڈے بھی۔

بعض مغربی ذرائع سے ایسی اطلاعات بھی آئی ہیں کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہے اور نہ کوئی مطالبہ تسلیم کرنے پر تیار ہے۔ گویا مکمل ڈیڈ لاک ہے۔مایوسی کی اس کیفیت میں امید کی ایک کرن جاگی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، قطر، عمان اور متحدہ عرب امارات ڈیڈ لاک کے خاتمے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

اس ضمن میں وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر رجب طیب ایردوان نے ایرانی قیادت سے رابطے کیے ہیں۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ کشیدگی اتنی نہ بڑھے جس کی وجہ سے تیل کی گزرگاہیں بند ہو جائیں ۔ یہ صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے، اگر ایران پر حملہ نہ ہو۔ پاکستان اور ترکیہ کی کوششیں اس ضمن میں امید کی کرن ہیں۔ دونوں برادر ممالک ایران کے ساتھ بھی اعتماد کا رشتہ رکھتے ہیں اور امریکا کو بھی کسی معقول تجویز پر آمادہ کر سکتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور صدر رجب طیب اردوان پر جتنا اعتماد تہران میں ہے، اتنی ہی اہمیت واشنگٹن میں بھی ہے۔ پاکستان سمیت یہ تین مسلم ممالک بہت حد تک پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کشیدگی میں کمی کے لیے تینوں برادر ملکوں کی سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں، ان کا دائرہ وسیع ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ فریقین کوئی سبکی محسوس کیے بغیر کسی آبرو مندانہ مفاہمت پر پہنچ سکیں۔ ممکنہ شرائط یہ ہو سکتی ہیں کہ ایران نہ صرف یہ کہ مذاکرات پر آمادہ ہو جائے اور اعلان کر دے کہ ایٹمی صلاحیت کا حصول اس کا مقصد نہیں ہے اور اس کا میزائل پروگرام غیرمؤثر ہو جائے گا۔ یہ کوشش بھی کی جا رہی ہے کہ کشیدگی اس حد تک نہ بڑھے کہ اس کے نتیجے میں تیل کی سپلائی لائن متاثر ہو۔ یہ کوششیں کام یاب ہوتی ہیں تو اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ فریقین میں سے کوئی بھی شکست اور شرمندگی محسوس نہ کرے۔

یہ حملہ اس لیے بھی ممکن نہیں رہا کہ ایران کے ہمسایہ ملکوں نے اس پر حملے کے لیے سہولت فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔ مسلم دنیا کی طرف سے اتحاد کا ایسا مظاہرہ بڑی مدت کے بعد ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود ڈیڈ لاک جاری رہتا ہے اور جنگ ہی واحد راستہ باقی بچتا ہے تو امریکی بحری بیڑوں سے ایران پر حملے کیے جا سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ حملے ماضی کے مقابلے میں زیادہ شدت کے ہوں گے۔ فضائی حملے ماضی میں ایرانی عوام اور حکومت کے درمیان اتحاد توڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ وہ لوگ جو حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلے تھے، فی الحقیقت پانی کا بلبلہ ثابت ہوئے۔ یہ سطحی اور پانی کا بلبلہ کیسے تھے، ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اسے بڑی خوب صورت مثال سے واضح کیا۔

انھوں نے کہا کہ عوام کے جوابی مظاہرے کسی موسلا دھار بارش جیسے تھے جس سے بغاوت فضائی آلودگی کی طرح خس و خاشاک بن کر بہہ گئی۔ ان واقعات سے ثابت ہو گیا کہ عوامی قوت کے سامنے باغی قوتوں کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ یہ صورت حال اب بھی برقرار ہے اور ایران پر حملہ کیا جائے یا حالیہ فسادات کی طرح اندر سے تخریب کی جائے، حکومت کی تبدیلی کا امکان نہیں۔ اس کے باوجود حملے کی حماقت ہو جاتی ہے تو یہ صورت حال خطرناک ہو گی لیکن ماضی کے تجربات سے سیکھ کر ایران نے بھرپور جوابی حکمت عملی تیار کر لی ہے اور اس بار جون کی طرح دشمن کو کھلا میدان نہیں ملے گا جس میں قیادت کو نشانہ بنایا جا سکے لیکن اگر ایسے حملے ہوتے ہیں تو اس کے نتیجے میں جنگ کی شدت ماضی سے بڑھ کر ہو گی جس کا سب سے زیادہ خمیازہ اسرائیل کو بھگتنا پڑے گا۔

امریکی اڈے بھی نشانہ بنیں گے۔ اس طرح یہ جنگ صرف خطے کو ہی نہیں ہے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دے گی۔ یہی سبب ہے کہ چین اور روس بھی کسی جنگ کا حصہ بنے بغیر کشیدگی کے خاتمے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ امید کرنی چاہیے کہ جنگ نہیں ہو گی اور فریقین کسی آبرو مندانہ مفاہمت پر پہنچ جائیں گے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوتا تو حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کا سامنا ایک مختلف ایران سے ہو گا جہاں رجیم چینج کے امکانات سے زیادہ حملہ آوروں اور ان کے مفادات کی تباہی کے امکانات ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حملے کی تند و تیز آندھی جلد پسپائی کے راستے تلاش کرے گی۔

۔۔۔۔۔۔

 حکومت پنجاب کے ملازمین بنام وزیر اعلیٰ پنجاب

ڈاکٹر طارق کلیم میرے عزیز دوست ہیں۔ پنجاب لیکچررز و پروفیسرز ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس پنجاب کے سینئر وائس چیئرمین ہیں۔ انھوں نے میرے نام ایک خط میں حکومت پنجاب کے ملازمین کے مسائل کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ پنجاب کے سرکاری ملازمین کے دو بڑے مسائل ہیں۔ پہلا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکومت اپنے ملازمین کو ایک آنکھ سے نہیں دیکھتی یعنی ایک ہی سطح کے سرکاری ملازمین کے معاوضوں میں تفاوت ہے جیسے بی پی ایس 17 کے لیکچرر اور سبجیکٹ اسپیشلسٹ یاکسی محکمے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی تنخواہ اسی اسکیل کے اسسٹنٹ کمیشنر، مجسٹریٹ، سیکشن افسر حتیٰ کہ اے پی ایس یا عدلیہ کے اسی گریڈ کے افسر سے کہیں کم ہے ۔اسی طرح سیکریٹریٹ میں کام کرنے والا درجہ چہارم کا ملازم بھی اساتذہ سے زیادہ معاوضہ پاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ مراعات کا بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس طرز عمل سے ریاست میں طبقاتی تفریق گہری ہو رہی ہے جو ریاست کے مقاصد کے منافی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ کچھ عرصہ قبل سرکاری ملازمین کی تحریک کے نتیجے میں وفاقی حکومت نے تفاوت کے خاتمے کا مطالبہ تسلیم کر لیا اور اس مقصد کے لیے پچیس فیصد ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس دینے کا اعلان کیا جسے صوبوں نے بھی تسلیم کر لیا۔ پنجاب میں ابتدا میں اس مد میں ادائیگی ہوئی لیکن اب یہ سلسلہ روک دیا گیا ہے جس سے سرکاری ملازمین میں بے چینی ہو رہی ہے۔

ڈاکٹر طارق کلیم نے مزید لکھا ہے کہ سرکاری ملازمین چاہتے ہیں کہ انھیں جن شرائط پر ملازمت دی گئی تھی، ان ہی پر ریٹائر بھی کیا جائے۔ وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی پنشن اور گریجویٹی کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاق اور دیگر صوبوں نے اس قانون کا اطلاق مستقبل میں بھرتی ہونے والے ملازمین پر کیا ہے لیکن پنجاب نے پہلے سے کام کرنے والے ملازمین پربھی اس قانون کا اطلاق کر کے پینشن اور گریجویٹی میں تخفیف کر دی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں اگر کسی ملازم کو گریجویٹی کے ضمن میں دس لاکھ ملنے تھے تو اب تین چار لاکھ روپے ملیں گے۔ یہ سرکاری ملازمین کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے کیوں کہ ملازمین اپنے بہت سے کام ریٹائرمنٹ کے وقت ملنے والے واجبات تک اٹھا رکھتے ہیں جن میں بچوں کی شادیاں اور گھر کی تعمیر شامل ہے لیکن اس فیصلے نے ان کے منصوبوں پر اوس ڈال دی ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں سرکاری ملازمین کی یہ درگت تشویش ناک ہے۔ وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے گزارش ہے کہ وہ اس مسئلے پر فوری طور پر توجہ دے کر صوبے کے سرکاری ملازمین میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سرکاری ملازمین کے نتیجے میں اس کے باوجود ملازمین کے جا رہی ہے ایران پر انھوں نے پنجاب کے کہ ایران یہ ہے کہ رہے ہیں ہیں کہ ہے اور کام کر اور اس کیا ہے کے لیے

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن