Jasarat News:
2026-06-02@22:31:32 GMT

ماتلی، ٹرانسپورٹ مافیا بے لگام ، مسافروں کی جان خطرے میں

اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ماتلی (جسارت نیوز) تعلقہ ماتلی جو کہ تین اضلاع کا اہم سنگم ہے، وہاں حیدرآباد، بدین اور اندرونِ سندھ کے روٹس پر ٹرانسپورٹ مافیا بے لگام ہو چکی ہے جس کے باعث مسافروں کی جانیں شدید خطرے میں ہیں۔ حیدرآباد سے بدین، ڈگری، عمرکوٹ، نوکوٹ اور کراچی کے لیے چلنے والی وین اور کوسٹر سروسز میں ٹریفک اور حفاظتی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں روز کا معمول بن چکی ہیں اور ہزاروں مسافر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ ان روٹس پر ٹرانسپورٹ مافیا اس قدر طاقتور ہے کہ کسی بھی قانون کی پاسداری کرنا اس کے لیے غیر ضروری بن چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق متعدد وینوں اور کوسٹروں میں غیر معیاری اور غیر قانونی سی این جی ٹنکیاں نصب کی گئی ہیں جو کسی بھی وقت بڑے حادثے یا دھماکے کا سبب بن سکتی ہیں، ماہرین نے ان گاڑیوں کو ‘‘چلتے پھرتے بم’’ قرار دیا ہے۔ خصوصاً حیدرآباد سے بدین کے درمیان چلنے والی کوسٹر سروسز میں ٹریفک قوانین کی بدترین خلاف ورزیاں جاری ہیں جہاں گاڑیوں میں حد سے زیادہ اوور لوڈنگ کے ساتھ ساتھ مسافروں کو کھلے عام چھت پر بٹھایا جا رہا ہے، ماضی میں متعدد بار چھت سے گر کر مسافر جاں بحق یا زخمی ہو چکے ہیں مگر ٹرانسپورٹ مالکان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ ان روٹس پر چلنے والی بیشتر گاڑیوں کے ڈرائیور نہ تو تربیت یافتہ ہیں اور نہ ہی ان کے پاس ڈرائیونگ لائسنس موجود ہے، جو متعلقہ اداروں کی سنگین غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ ایس ٹی آر ایس (سندھ ٹرانسپورٹ ریگولیٹری اتھارٹی) کے مقرر کردہ کرایوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے مسافروں سے زائد رقم وصول کی جا رہی ہے جس پر احتجاج کرنے پر کنڈکٹرز اور مسافروں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کے واقعات روزانہ پیش آ رہے ہیں۔

جسارت نیوز گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار

کراچی:

شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔

ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری