Jasarat News:
2026-06-03@01:14:37 GMT

سانحہ گل پلازہ: ریاستی غفلت اور حفاظتی انتظامات پر سوالات

اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی کے شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے ایک بار پھر شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس المناک واقعے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے جبکہ اربوں روپے مالیت کا سامان خاکستر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جوارِ رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر عطا فرمائے۔گل پلازہ آگ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ کراچی میں حفاظتی انتظامات کی ناکامی اور ریاستی غفلت کی ایک واضح مثال ہے۔ یہ واقعہ 2011 میں بلدیہ فیکٹری سانحے کی یاد تازہ کرتا ہے، جس میں 260 بے گناہ مزدور جاں بحق ہوئے تھے۔ اس کے باوجود اس نوعیت کے سانحات کے بعد کیے گئے وعدے اور انکوائریاں عملی نتائج میں تبدیل نہیں ہو سکیں۔ کراچی میں کاروبار کی تیزی سے توسیع کے ساتھ بنیادی شہری سہولیات جیسے پانی، بجلی، گیس اور ٹریفک کے انتظامات کی کمی، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور حفاظتی ضوابط کی غیر مؤثر عملداری شہری زندگی کو مسلسل خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ذمہ دار ادارے مؤثر اقدامات کریں، بڑے تجارتی مراکز اور فیکٹریز میں حفاظتی انتظامات کو سختی سے نافذ کریں اور شہریوں کے بنیادی حقوق یعنی محفوظ زندگی اور باعزت روزگار کو یقینی بنائیں۔ اگر یہی رویہ جاری رہا تو مستقبل میں مزید سانحات کی توقع کرنا غیر حقیقی نہیں۔

 

محمد سلیم گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ

مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔

مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے