9 سالہ محبت شادی کے محض 2 ماہ بعد کیسے موت کے گھاٹ اترگئی؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر بریلی سے سامنے آنے والا یہ واقعہ ایک ایسی محبت کی کہانی کا انجام ہے جو 9 سال تک چلی، شادی پر منتج ہوئی، مگر صرف 2 ماہ بعد موت کے گھاٹ اتر گئی۔
یہ کہانی ہے 33 سالہ جتیندر کمار یادو اور اس کی اہلیہ جیوتی کی، جن کی شادی 25 نومبر 2026 کو ہندو رسم و رواج کے مطابق، دونوں خاندانوں کی رضامندی سے ہوئی تھی۔
کوئی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ جس رشتے کی بنیاد محبت پر رکھی گئی ہو، وہ اتنی جلدی نفرت اور تشدد میں بدل جائے گا۔
شادی کے بعد بدلتے حالاتپولیس کے مطابق، شادی کے چند ہی ہفتوں بعد میاں بیوی کے تعلقات میں دراڑیں پڑنے لگیں۔ بنیادی وجہ پیسوں کا تنازعہ تھا۔ الزام ہے کہ جتیندر نے اپنی بیوی جیوتی کے بینک اکاؤنٹ سے 20 ہزار روپے نکلوائے اور یہ رقم آن لائن جوئے میں ہار گیا۔
یہ بھی پڑھیے 32 سالہ خاتون شادی نہ ہونے پر ساتھی کے ہاتھوں قتل، تحقیقات جاری
یہ نقصان جیوتی کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ اس کے بعد بات بات پر جھگڑے ہونے لگے، تلخی بڑھتی گئی اور محبت کا رشتہ بداعتمادی میں بدلنے لگا۔
26 جنوری: جھگڑا، فون کال اور موت26 جنوری کو جیوتی نے اپنے شوہر سے گمشدہ رقم کے بارے میں سوال کیا۔ بات بڑھتے بڑھتے جھگڑے اور پھر ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ اسی دوران جیوتی نے اپنے والد کالی چرن، والدہ چمیلی اور بھائی دیپک کو فون کر کے گھر بلا لیا۔
یہ مکان بریلی کے عزت نگر علاقے کی گرِجا شنکر کالونی میں واقع تھا، جہاں شادی کے بعد سے یہ جوڑا کرائے پر رہ رہا تھا۔
گلا دبایا گیا، جسم لٹکایا گیاپولیس کی تفتیش کے مطابق، جیوتی کے والدین اور بھائی کے پہنچنے کے بعد جھگڑا شدت اختیار کر گیا۔ الزام ہے کہ والد، والدہ اور بھائی نے جتیندر کے ہاتھ پاؤں پکڑ لیے، جبکہ جیوتی نے اپنے شوہر کا گلا دبایا۔
جب جتیندر نے حرکت بند کر دی اور جان چلی گئی، تو معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔
خودکشی کا ڈرامہقتل کے بعد ملزمان نے جرم کو چھپانے کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق، جتیندر کی لاش کو ایک مفلر کی مدد سے کھڑکی یا وینٹی لیٹر کی گرِل سے لٹکا دیا گیا تاکہ یہ منظر خودکشی لگے۔
پڑوسیوں کو بتایا گیا کہ جتیندر نے اپنے آپ کو پھانسی لگا کر جان دے دی ہے۔ پولیس کو بھی ابتدا میں یہی بتایا گیا ،چنانچہ موقع پر پہنچنے والی ٹیم نے موت کو مشتبہ خودکشی تصور کیا۔
پوسٹ مارٹم نے راز کھول دیاکہانی اس وقت پلٹی جب جتیندر کے بھائی اجے کمار نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ اس کی بنیاد پر پوسٹ مارٹم کرایا گیا، جس کی رپورٹ نے سب کچھ بدل دیا۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ موت کی وجہ پھانسی نہیں بلکہ گلا دبانا (Strangulation) تھی۔ یوں خودکشی کا ڈرامہ بے نقاب ہو گیا۔
الزام خودکشی پر اکسانے سے قتل تکپہلے پولیس نے معاملہ خودکشی پر اکسانے کا درج کیا تھا، مگر پوسٹ مارٹم کے بعد دفعات بدل کر قتل کی کر دی گئیں۔ تحقیقات تیز کی گئیں اور جیوٹی، اس کے والدین کو گرفتار کر لیا گیا۔
جیوتی کا بھائی دیپک بھی نامزد ملزم ہے، جس کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے۔
اعترافِ جرمپولیس کے مطابق، تفتیش کے دوران جیوتی نے اپنا جرم قبول کر لیا۔ اس نے بتایا کہ وہ اور جتیندر طالب علمی کے زمانے سے ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ جتیندر بریلی کے انڈین ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (IVRI) میں کنٹریکٹ پر کام کرتا تھا، جبکہ جیوتی اتر پردیش روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں کنڈکٹر تھی۔
یہ بھی پڑھیے ’تمہاری بہن کو مار رہا ہوں‘، لیڈی پولیس کمانڈو شوہر کے ہاتھوں قتل
اس نے اعتراف کیا کہ مالی جھگڑوں نے اسے شدید غصے میں مبتلا کر دیا اور اسی غصے میں اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔
ایک سوالیہ نشانیہ واقعہ کئی سوال چھوڑ جاتا ہے۔ کیا محبت شادی کے بعد اتنی آسانی سے نفرت میں بدل سکتی ہے؟ کیا وقتی غصہ انسان کو قاتل بنا دیتا ہے؟ اور کیا خاندان، بیٹی کا ساتھ دیتے دیتے اتنی بڑی حد پار کر سکتا ہے؟
بریلی کا یہ واقعہ صرف ایک قتل نہیں، بلکہ ایک تلخ سبق ہے کہ غصہ، لالچ اور تشدد مل کر محبت کی سب سے مضبوط کہانی کا گلا کیسے گھونٹ دیتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اترپردیش بھارت جرم و سزا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اترپردیش بھارت جیوتی نے کے مطابق شادی کے نے اپنے کے بعد
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔