City 42:
2026-06-02@22:14:45 GMT

لاہور میں بسنت کے لیے 2,276 مجاز سیل پوائنٹس قائم

اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT

سٹی42: کمشنر لاہور مریم خان نے بتایا ہے کہ لاہور میں پتنگ اور ڈور کی فروخت کے لیے مجموعی طور پر 2 ہزار 276 سیل پوائنٹس کو اجازت دی گئی ہے تاکہ شہری محفوظ انداز میں بسنت منا سکیں۔

کمشنر لاہور کے مطابق ہر مجاز سیل پوائنٹ پر پتنگ بازی کا سامان کیو آر کوڈ اور این او سی کے تحت فروخت کیا جا رہا ہے۔ اندرونِ لاہور کے ریڈ زون کے علاوہ شہر کے تمام علاقوں میں یہ سیل پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔

چور شادی پر جانے والی فیملی کے گھر کا صفایا کر گئے

مریم خان نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ بسنت کے موقع پر صرف کیو آر کوڈ والا سامان ہی خریدیں تاکہ غیر قانونی اور خطرناک ڈور کے استعمال سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر این او سی اور کیو آر کوڈ سامان فروخت کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کمشنر لاہور کے مطابق تمام اسسٹنٹ کمشنرز کے تحت کوئیک رسپانس ٹیمیں شہر بھر میں قائم سیل پوائنٹس کی چوبیس گھنٹے نگرانی کر رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لاہور انتظامیہ بسنت کے دوران صفائی، آگاہی اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہے تاکہ شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

آزاد کشمیر کے طلبا نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی جدوجہد آزادی کو مشترکہ ذمہ داری قرار دے دیا

یاد رہے کہ شہر میں بسنت 6،7 اور 8 فروری کو منائی جائے گی، اس سلسلے میں لاہور میں پتنگ بازی کے سامان کی فروخت شروع ہوگئی۔پہلے ہی دن کھڑکی توڑ رش ، پتنگ اور ڈور کی خریداری کے لیے موچی گیٹ اندرون شہر کے گڈی بازار میں رش لگ گیا۔پتنگ اور ڈور کی قیمتوں نے خریداروں کے ہوش اڑا دیے۔ایک تاوا گڈا اور پتنگ 400 ، ڈیڑھ تاوا 5 سے 6 سو روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ڈور کی قیمتوں میں بھی بڑا اضافہ ہوا ہے۔ دو پیس پِنا ساڑھے 4 سے 5ہزار روپے میں دستیاب ہے۔

بسنت:پولیس کی تیاری مکمل،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر  کارروائی ہو گی

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹی42 سیل پوائنٹس ڈور کی کے لیے

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا