فروری کے آغاز میں کتنی تعطیلات کا اعلان؟ جانیں مکمل تفصیل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: پنجاب حکومت کی جانب سے شبِ برات کے موقع پر بدھ 4 فروری کو عام تعطیل کا اعلان نہیں کیا گیا، جس کے باعث شہری پانچ کے بجائے چار دن کی تعطیلات سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔
حکومتِ پنجاب نے ضلعی انتظامیہ کی سفارش پر 6 فروری کو لاہور میں بسنت کے موقع پر مقامی تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد شہریوں کو بسنت کی تقریبات میں بھرپور اور محفوظ انداز میں شرکت کا موقع فراہم کرنا ہے۔ اس تعطیل کی منظوری صوبائی حکومت نے ضلعی انتظامیہ کی تجویز پر دی۔
حافظ آباد: جیولر شاپ سے سونے کا پورا باکس چرانے والی نوسر باز خاتون گرفتار
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس حوالے سے اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب 5 فروری کو یومِ کشمیر کی تعطیل، 6 فروری کو بسنت کی صوبائی تعطیل اور اس کے بعد ہفتہ اور اتوار کی چھٹیوں کے باعث ایک ساتھ چار دن کا لانگ ویک اینڈ منائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ عوام اس وقفے کو آرام، تفریح اور توانائی بحال کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔
وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق 5 فروری 2026 کو یومِ کشمیر کے موقع پر ملک بھر میں عام تعطیل ہو گی، جس کا اطلاق وفاقی و صوبائی سرکاری اداروں، تعلیمی اداروں اور بیشتر نجی دفاتر پر بھی ہوگا۔ اس حوالے سے کابینہ ڈویژن کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جا چکا ہے۔
سیکرٹری بورڈ آف ریونیو آصفہ مرتضیٰ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست,جواب طلب
یومِ کشمیر ہر سال کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے منایا جاتا ہے، جس کے دوران ملک بھر میں ریلیاں، سیمینارز اور دعائیہ اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا جا سکے۔حکام کے مطابق ہفتہ اور اتوار کی چھٹیاں پہلے سے طے تھیں جبکہ بسنت کے باعث لاہور میں جمعہ کی تعطیل کا فیصلہ ٹریفک دباؤ کم کرنے اور سکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ 18 سال سے کم عمر بچے بسنت کی تقریبات میں اہلِ خانہ کے ہمراہ شریک ہوں تاکہ نظم و ضبط اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی یونیورسٹی آف تربت کے طلبا و اساتذہ کیساتھ نشست
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: فروری کو
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔