مشہور ٹیلی وژن اداکارہ روپالی گنگولی کا مقبول ڈرامہ سیریل انوپما ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گیا ہے۔ اس بار وجہ شو کا ایک جذبات سے بھرپور منظر ہے جس میں روپالی گنگولی کے مکالمے نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا۔

وائرل ہونے والے اس منظر میں روپالی گنگولی، راجنی کے کردار میں نظر آنے والی اداکارہ رنکو دھون کے ساتھ شدید لفظی تصادم میں دکھائی دیتی ہیں۔ منظر کے دوران روپالی کا طویل اور جارحانہ مکالمہ ناظرین کی توجہ کا مرکز بن گیا خاص طور پر ان کا جملہ ’گھما گھما کے ماروں گی‘ سوشل میڈیا صارفین کو بالی ووڈ اداکار سنی دیول کی یاد دلا گیا۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Reels Talkies (@reels.

talkies)

وائرل ویڈیو میں اداکارہ کہتی ہیں کہ ’ماروں گی تجھے بالوں سے پکڑ کر، چوٹی سے گھسیٹ کر بیچ بازار لا کر ماروں گی۔ تجھے گھما گھما کر ماروں گی، گرا گرا کر ماروں گی، دوڑا دوڑا کر ماروں گی، بھگا بھگا کر ماروں گی، سینڈل توڑ کر ماروں گی، دونوں ہاتھوں سے ماروں گی۔ ہاتھ تھک گئے تو لاتوں سے ماروں گی اور اگر پیر تھک گئے تو باتوں سے ماروں گی۔ اتنا ماروں گی کہ درد بھی کنفیوز ہو جائے گا کہ کس کس ہڈی پر، کس کس چوٹ پر دھیان دے۔ بہت ماروں گی‘۔

سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اس منظر کا موازنہ سنی دیول کے مشہور ایکشن مناظر سے کیا جبکہ ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں روپالی گنگولی کو ’سنی دیول الٹرا پرو میکس‘ قرار دیا۔ منظر وائرل ہوتے ہی میمز اور دلچسپ تبصروں کی بھرمار ہو گئی۔ ایک صارف کا کہنا تھا ’ ماروں گی کے 50 شیڈز‘۔

کچھ صارفین نے اس منظر کو گھریلو حالات سے جوڑتے ہوئے لکھا ’میری ماں جب ریاضی کے امتحان میں نمبر کم آ جائیں‘ اور ’میری بہن جب اسے پتا چلے کہ میں نے اس کا شیمپو استعمال کر لیا ہے‘۔

جب ایک مداح نے اس منظر میں ان کی شاندار اداکاری کی تعریف کی تو روپالی نے ایکس پرلکھا کہ یہ مناظر لگاتار شوٹ کیے جاتے ہیں اور وہ بھی دو مختلف یونٹس میں تقریباً ایک ہی وقت پر۔ یہ سوچنے کا وقت ہی نہیں ہوتا کہ میں تھکی ہوں یا نہیں، بس اپنا کام کرتے جاؤ۔ رائٹرز، ایڈیٹرز، ڈائریکٹرز، ڈی او پی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز بہت مدد کرتے ہیں، یہ سب ٹیم ورک ہے۔ جب وہ لوگ نہیں تھکتے تو میں کیسے تھک جاؤں؟

These scenes r literally done back to back and two different scenes in two different units almost simultaneously…. Where is the time to think if I m tired or drained out … bas karm karte jao … the writers editors directors and DOP and the ADs help so so so much … team effort… https://t.co/7eW3YZpowr

— Rupali Ganguly (@TheRupali) January 28, 2026

واضح رہے کہ انوپما جو پہلی بار 2020 میں نشر ہوا، بنگالی سیریل سریموئی کا آفیشل ہندی ریمیک ہے۔ اس شو میں مرکزی کردار ادا کرنے کے بعد روپالی گنگولی نے ایک نئی فین فالوئنگ حاصل کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انوپما بھارتی ڈرامہ انوپما روپالی گنگولی ویڈیو وائرل

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انوپما بھارتی ڈرامہ انوپما ویڈیو وائرل کر ماروں گی سوشل میڈیا

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل