“سب ختم ہو گیا” کا بیانیہ دم توڑ گیا؛ لیپ ٹاپ محض مشین نہیں ریاست کا نوجوانوں کے خوابوں پر اعتماد ہے: سیدہ آمنہ بتول ،فوکل پرسن وزیراعظم یوتھ پروگرام
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
“سب ختم ہو گیا” کا بیانیہ دم توڑ گیا؛ لیپ ٹاپ محض مشین نہیں ریاست کا نوجوانوں کے خوابوں پر اعتماد ہے: سیدہ آمنہ بتول ،فوکل پرسن وزیراعظم یوتھ پروگرام WhatsAppFacebookTwitter 0 2 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)
وزیراعظم یوتھ پروگرام کی فوکل پرسن، ایم این اے سیدہ آمنہ بتول نے کہا ہے کہ کافی شاپس اور قہوہ خانوں میں بیٹھ کر پاکستان کے مستقبل سے متعلق مایوسی پھیلانے والا بیانیے کی حقیقت بہت کمزور ہے، اصل حقیقت وہ لیپ ٹاپ ہے جو نوجوان کے ہاتھ میں ‘مستقبل کی چابی’ بن کر اسے عالمی معیشت سے جوڑ رہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں فوکل پرسن وزیراعظم یوتھ پروگرام ، سیدہ آمنہ بتول نے قہوہ خانوں اور سوشل میڈیا پر جاری “سب ختم ہو گیا” کے نعروں کا موازنہ نوجوانوں کی عملی جدوجہد سے کرتے ہوئے کہا کہ “ڈوم اینڈ گلوم” کی کہانیاں وائرل تو ہو سکتی ہیں مگر ان میں دم نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں کچھ لوگ بیٹھ کر صرف باتیں کر رہے ہیں، وہاں پاکستان کے ‘ڈیجیٹل نیٹو’ نوجوان اپنے لیپ ٹاپس پر بیٹھ کر مصنوعی ذہانت اور ای کامرس کے ذریعے ملک کی نئی پہچان بنا رہے ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت دیے جانے والے لیپ ٹاپس کو محض ایک الیکٹرانک مشین نہ سمجھا جائے، بلکہ یہ ان نوجوانوں کے لیے ایک ‘گیٹ وے’ ہے جو وسائل کی کمی کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے تھے۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کا دفتر ہے، آپ کی یونیورسٹی ہے اور آپ کا تخلیقی سٹوڈیو بھی۔ ریاست آپ کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ ہمیں آپ کے خوابوں پر یقین ہے اور ہم ان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
فوکل پرسن سیدہ آمنہ بتول نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قہوہ خانوں کی بحث میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اس کنیکٹیویٹی کو استعمال کریں تاکہ آپ لاہور یا کراچی میں بیٹھ کر سلیکون ویلی، لندن اور ٹوکیو کے ٹیلنٹ کا مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ فری لانسرز اور ڈویلپرز اس وقت پاکستان کے لیے زرمبادلہ کما رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ محنت کرنے والوں کے لیے سرحدیں اب کوئی معنی نہیں رکھتیں۔
سیدہ آمنہ بتول نے واضح کیا کہ لیپ ٹاپ کی فراہمی کسی سیاسی ہمدردی یا خیرات کی بنیاد پر نہیں بلکہ مکمل طور پر میرٹ اور شفافیت کے ذریعے کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کی قیادت میں ہمارا مقصد نوجوانوں کو وسائل فراہم کرنا ہے، اب شاہکار تخلیق کرنا ان کا کام ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسی ڈی اے میں تقرری و تبادلے، کامران بخت کو ڈی جی ایچ آر کا چارج مل گیا،، تفصیلات و دستاویز سب نیوز پر سی ڈی اے میں تقرری و تبادلے، کامران بخت کو ڈی جی ایچ آر کا چارج مل گیا،، تفصیلات و دستاویز سب نیوز پر علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری، گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم پاکستان کی اقتصادی ترقی اور اصلاحات میں عالمی بینک گروپ کی اہم معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں: وزیراعظم چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سرکاری دورے پر کمبوڈیا پہنچ گئے فارن فنڈنگ کیس میں عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار سعد رضوی اور انس رضوی کی بازیابی سے متعلق کیس میں اہم پیشرفتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وزیراعظم یوتھ پروگرام سیدہ آمنہ بتول نے فوکل پرسن انہوں نے سب نیوز رہے ہیں بیٹھ کر لیپ ٹاپ کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔