ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا الزام ہے جس پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی ٹریفک پیرمحمد شاہ کوعہدے سے ہٹائے جانے کے معاملے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں،ڈی آئی جی پیر محمد شاہ  پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکو مبینہ طور پر اغوا کروانے کا الزام ہے۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈوھو نے ڈی آئی جی ٹریفک پیرمحمد شاہ سے حیدر آباد کے تھانے اے سیکشن لطیف آباد میں تاجرکے خلاف درج مقدمے2026/506 میں وضاحت طلب کی تھی۔

آئی جی سندھ  نے 16 جنوری کو پیر محمد شاہ سے حیدرآباد میں تاجر کیخلاف مقدمہ درج کروانے کے معاملے پر شوکازجاری کیا تھا۔

شوکازمیں کہا گیا کہ ییرمحمد شاہ نے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے جانب داری برتی اور قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسی پولیس افسرکو مقدمے کی تفتیشی سونپی گئی جس نے مقدمہ درج کیا۔

پیرمحمد شاہ کو تین دن کی مہلت دی گئی اورجواب نہ دینے پر محکمہ جاتی کارروائی انتبیٰ کیا گیا اور تقریبا 14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کوپیر محمد شاہ کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا۔

حیدر آباد کے تھانے اے سیکشن لطیف آباد میں درج مقدمے میں تاجرسے 31 کروڑ روپے سے زائد کی رقم کی واپسی کا مطالبہ ظاہرکیا گیا تھا۔

تفتیشی حکام کے مطابق رواں سال 14 جنوری کی شام حیدرآباد کی پولیس کراچی آئی اور حیدرآباد پولیس نے ڈیفنس فیز6 سے مقدمے میں نامزد تاجرکوساتھ لے گئی۔

تاجروں کی مداخلت کے بعد مغوی تاجر ک حیدرآباد پولیس نے چھوڑ دیا تھا  جس کے بعد متاثرہ تاجر کی مدعیت میں کاروباری حریف اوراس کے ساتھیوں کیخلاف 22 جنوری کو گزری تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔

مدعی مقدمہ دانش متین کے مطابق 14 جنوری کو ڈیفنس فیز 6 میں اپنے گھرسے دفتر جانے کیلیے نکلا تھا سفیدگاڑی میں سوارتین افراد نے مجھے روکا اورزبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش کی2 افراد نے پولیس یونیفارم سے ملتا جلتا لباس پہنا ہوا تھا۔

ملزمان نے مجھ سے کاروباری حریف سے تنازع ختم کرنے، 31 کروڑ روپے نہ مانگنے اورتمام دستاویزات اور چیکیس واپس کرنے کا تقاضہ کیا۔

ملزمان نے میرے گھر کال کرکے 3 کروڑ روپے تاوان بھی مانگا، ملزمان نے میری جیب میں موجود 10 لاکھ روپے اور قیمتی کھڑی چھین لی، ملزمان نے رات ساڑھے 11 بجے کے قریب مجھے میرے دفتر کے قریب چھوڑا۔

حیدر آباد پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث  تھانہ اے سیکشن لطیف آباد میں تعینات اے ایس آئی مزرا راشد سمیت 3 پولیس اہلکاوں کومعطل کردیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پیر محمد شاہ محمد شاہ کو جنوری کو کے مطابق

پڑھیں:

کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق

شہر قائد کے علاقے سرجانی ٹاؤن روزی گوٹْھ میں فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں باپ اور بیٹا جاں بحق جبکہ دوسرا بیٹا زخمی ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق سرجانی روزی گوٹھ میں فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں والد اور دو بیٹے زخمی ہوئے۔ 

مقتولین کی لاشوں اور زخمی کو چھیپا کے رضا کاروں نے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا۔

اس حوالے سے ترجمان ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کا کہنا ہے کہ سرجانی روزی گوٹھ میں فائرنگ سے جاں بحق افراد کی شناخت 62 سالہ کامل حسین اور اس کے بیٹے کو 26 سالہ دوہان کے نام شناخت کیا گیا جبکہ زخمی ہونے والے دوسرے بیٹے 30 سالہ عادل کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق ابتدائی معلومات میں پتہ چلا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ رشتے داروں کے درمیان تنازع پر جھگڑے کے دوران پیش آیا جس کی اطلاع ملتے ہی سرجانی ٹاؤن پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد حاصل کیے اور واقعے کی مزید چھان بین شروع کر دی ہے۔

ترجمان کے مطابق  فائرنگ کرنے والے ملزم کی بھی شناخت کرلی گئی ہے جس کی گرفتاری کے لیے لیے پولیس چھاپہ مار رہی ہے جسے جلد گرفتار کرلیا جائیگا۔

ایس ایچ او سرجانی ٹاؤن سہیل خاصخیلی نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ لڑکی کے رشتے پر ہونے والے تنازعے کی وجہ سے پیش آئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی