data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

چین: ضرورت سے زائد کام کے دباؤ کے باعث 32 سالہ نوجوان پروگرامر گاؤ گوانگ اچانک انتقال کر گیا، جس نے ورک کلچر اور ذہنی دباؤ کے مسائل پر سوالات کو دوبارہ اجاگر کر دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گاؤ گوانگ کی وفات کے صرف آٹھ گھنٹے بعد بھی دفتر کی جانب سے اسے ایک فوری اور نیا کام سونپا گیا تھا، جس سے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق گاؤ گوانگ نومبر 2025ء میں اچانک انتقال کر گئے۔ ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ جس دن گاؤ گوانگ کی موت ہوئی، صبح سویرے بیدار ہونے کے بعد انہوں نے بتایا کہ طبیعت ٹھیک محسوس نہیں ہو رہی لیکن بیٹھ کر کچھ ضروری کام نمٹانا ہے۔

اہلیہ نے بتایا کہ تاہم چند ہی لمحوں بعد گاؤ گوانگ کی حالت بگڑ گئی اور دل کا دورہ پڑنے کے بعد وہ بے ہوش ہو گئے۔ اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹرز نے انہیں زندہ بچانے کی کوشش کی، مگر دوپہر تک ان کی موت کی تصدیق کر دی گئی۔

ڈاکٹروں نے موت کی وجہ اچانک دل کا دورہ قرار دی، جس کے پیچھے ممکنہ طور پر کام کے غیر معمولی دباؤ اور زیادہ محنت کی ذمہ داری ہو سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر اس واقعے کی خبر وائرل ہونے کے بعد صارفین نے نہ صرف دکھ اور افسوس کا اظہار کیا بلکہ کام کے دباؤ کے خلاف سخت ردعمل بھی دیا۔ متعدد حلقوں نے چین میں نوجوان پیشہ ور افراد کے طویل اوقات کار اور ذہنی دباؤ کے مسائل پر روشنی ڈالنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ایک انتباہ ہے کہ ضرورت سے زیادہ کام اور مسلسل دباؤ نوجوان پیشہ ور افراد کی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے اور اداروں کو انسانی وسائل کی دیکھ بھال اور محفوظ کام کے ماحول کی طرف توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گاؤ گوانگ دباؤ کے کام کے کے بعد

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا