پاک بحریہ کی ایکس سی گارڈز مشقوں کا آغاز، انسداد آلودگی پر خصوصی توجہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
وائس ایڈمرل فیصل امین افتتاحی تقریب کےمہمان خصوصی ہیں، ایکس سی گارڈز مشقوں کےدوران مکالمہ، عملی سمندری مشقیں بھی ہوں گی، پاکستان نیوی کے تحت ایکس سی گارڈز 2026کےدوران میرین سیکٹر کو درپیش مشکلات پر بات ہوگی۔ وائس ایڈمرل فیصل امین کا کہنا تھا کہ مختلف سرکاری و نجی شعبوں کےاداروں کا جے ایم آئی سی سی پر اعتماد بڑھا ہے، محفوظ سمندر مستحکم پاکستان سی گارڈز مشقوں کا موضوع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فشنگ انڈسٹری سےسالانہ اربوں ڈالر کا حصول ممکن ہے، گزشتہ ایک سال میں وزارت بحری امور نے بہتری کےلیے خاطرخواہ کام کیا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا سمندر زہر آلود ہورہا ہے۔ انہوں کہا کہ آج سے 25 سال پہلے سمندر زیادہ صاف تھا۔ سندھ حکومت کے ساتھ سمندری آلودگی کو روکنے کے دو منصوبوں پر کام ہورہا ہے، یہ مشقیں غیر روایتی خطرات کےتناظر میں ہورہی ہیں۔ وائس ایڈمرل نے کہا کہ فشنگ بوٹس پر ویسل مانیٹرنگ سسٹم کا منصوبہ تکمیل کےقریب ہے، ضرورت ہےکہ ماہی گیر کی معلومات اور استعداد بڑھائی جائے، سی گارڈز مشقوں کےدوران ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کی مشق کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ سی گارڈز کے ذریعے میری ٹائم سیکٹر کے مختلف اداروں میں رابطےاستوار ہوئے، سی گارڈز کےکامیاب انعقاد کےلیے پر امید ہوں، سمندری آلودگی کےخاتمے کےلیے پاکستان نیوی ہر فورم پر فشنگ کے شعبے کو وسعت دینےکےلیےسفارش کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔