Daily Mumtaz:
2026-06-02@22:15:24 GMT

PTI فارن فنڈنگ کیس کی سماعت 4 فروری تک ملتوی

اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT

PTI فارن فنڈنگ کیس کی سماعت 4 فروری تک ملتوی

 

اسلام آباد(نیوزڈیسک) بینکنگ عدالت نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کے لیے 2 دن کی مہلت دیدی۔

بینکنگ عدالت میں پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی، بینکنگ عدالت کے جج عبدالغفور کاکڑ نے کیس پر سماعت کی، فارن فنڈنگ کیس میں اسپیشل پراسکیوٹر واثق ملک عدالت میں پیش ہوئے۔

جج عبدالغفور کاکڑ نے استفسار کیا کہ آپ ابھی تک کیا کررہے ہیں؟چالان مکمل کیوں نہیں ہوا؟ جس پر پراسکیوٹر نے بتایا کہ کیس میں متعلقہ ملک سے رائے لینے کیلئے خط لکھ رکھے ہیں۔ جج نے ریمارکس دیے کہ معاملہ2022 سے چل رہا ہے،آپ نے ابھی تک دلچسپی ہی نہیں لی، تفتیشی کو شوکاز نوٹس اور ڈی جی ایف آئی اے کو اگلی تاریخ پرطلب کرتا ہوں۔

پراسکیوٹر واثق ملک نے استدعا کی کہ عدالت ایک ہفتے یا 10 دن کا وقت دے،ہم چالان مکمل کرلیتے ہیں، استدعا ہے ایک موقع دیا جائے،شوکاز نوٹس اور طلبی کا حکم ابھی نہ کریں۔ جج عبدالغفور کاکڑ نے کہا کہ میں اس معاملے کو دیکھ لیتا ہوں،آپ دو دن میں اپنی کارکردگی دکھائیں۔ عدالت نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت 4 فروری تک ملتوی کردی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور