اسلامک یونیورسٹی کشمیر کو پچاس لاکھ ایڈشنل گرانٹ دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
انہوں نے کہا کہ اسلامک یونیورسٹی نے پہلے ہی اسٹارٹ اپ پالیسی کو اپنایا ہے جسکے تحت طلباء اپنے آبائی مقام پر انٹرپرینئر بن سکتے ہیں اور اپنے خیالات کو تجارتی منصوبوں میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایک اہم پیشرفت میں جموں میں جے کے ای ڈی آئی (JKEDI) کے زیر اہتمام آئیڈیا ٹو امپیکٹ اسٹارٹ اپ میلہ میں، سی آئی ای ڈی آئی یو ایس ٹی (CIED-IUST ) نے 50 لاکھ کی سٹارٹ اپ گرانٹ حاصل کی۔ یہ ایوارڈ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ کی ٹیم کو پیش کیا۔ ٹیم کی قیادت وائس چانسلر پروفیسر شکیل احمد رومشو نے کی۔ اس موقع پر اسکے مشیر ناصر اسلم وانی، کمشنر سیکرٹری صنعت و تجارت، شری وکرم جیت سنگھ اور ڈائریکٹر جے کے ای ڈی آئی۔ جناب خالد جہانگیر موجود رہے۔ اس موقع پر یونیورسٹی کی جانب سے انکیوبیٹی کے تعاون سے شاندار انٹرپرینیورشپ کے فاتح اور اسٹارٹ اپ ایوارڈ کو بھی نوازا گیا۔
اس دوران اسلامک یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر شکیل احمد رومشو نے نوجوانوں میں کاروباری ثقافت کو پروان چڑھانے پر پروفیسر پرویز احمد میر اور سی آئی ای ڈی کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلامک یونیورسٹی نے پہلے ہی اسٹارٹ اپ پالیسی کو اپنایا ہے جس کے تحت طلباء اپنے آبائی مقام پر انٹرپرینئر بن سکتے ہیں اور اپنے خیالات کو تجارتی منصوبوں میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی آئی ای ڈی کے اثرات واضح ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جی آر 8 بیٹ یونٹ کو شاندار انٹرپرینیورشپ اور اسٹارٹ اپ ایوارڈ سے نوازا گیا۔
پروفیسر رومشو نے مسلسل تعاون کے لئے حکومت کا شکریہ ادا کیا اور مزید کہا کہ اسلامک یونیورسٹی کے ادارہ جاتی ترقیاتی منصوبے میں انوویشن اور انٹرپرینیورشپ کو ترجیحی شعبوں کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ نے قلیل مدت میں اونچی اڑان بھر لی ہے اور پورے ملک میں یونیورسٹی کا نام روشن ہوگیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ اسلامک یونیورسٹی اسٹارٹ اپ کہا کہ
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔