ماہ رمضان المبارک سے قبل ہی مہنگائی میں اضافہ ہونے لگا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ماہ رمضان المبارک سے پہلے ہی مہنگائی بڑھنے لگی ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ مہینے شرح 0.39 فیصد اضافے کے ساتھ سالانہ بنیادوں پر 5.80 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ جنوری میں ماہانہ بنیاد پر زندہ برائلرمرغی سولہ فیصد ، گندم دس فیصد، ٹماٹر سات فیصد اور آٹا 4.
جبکہ پھلوں کی قیمتیں 2.28 اور مصالحہ جات کی 2 فیصد بڑھیں۔ مچھلی، بیکری آئٹمز، دال مونگ، خشک میوے، خشک دودھ اور گوشت کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری طرف جنوری میں پیاز اور آلو 28 فیصد جبکہ مجموعی طور پر سبزیاں 16.59 فیصد تک سستی ہوئیں۔ چینی کی قیمت میں 9.6 اور انڈوں کی قیمت میں چھ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ ماہ دال چنا، مسور، گڑ، ماش، بیسن اور سگریٹس کے دام بھی کم ہوئے۔ جولائی دوہزار پچیس سے جنوری دوہزار چھبیس کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 5.24 فیصد رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔