مسیحی رہنما ورکن سندھ اسمبلی سلیم خورشید کی حیدرآباد آمد پر شاندار استقبال
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) مسیحی رہنما رکن سندھ اسمبلی سلیم خورشید کھوکھر کا حیدرآباد آمد پر پاکستان پیپلز پارٹی منارٹی ونگ ضلع حیدرآباد کے نائب صدر مقبول مسیح کھوکھر نے اپنے دفتر میں پرتپاک اور والہانہ انداز میں استقبال کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقبول مسیح کھوکھر نے کہا کہ سلیم خورشید کھوکھر اقلیتی عوام کے ایک سچے ترجمان اور مسیحی برادری کے لیے امید کی کرن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جناب سلیم خورشید کھوکھر نے اپنے تینوں ادوارِ رکنِ صوبائی اسمبلی میں جس خلوص، دیانت داری اور بے لوث جذبے سے اقلیتی عوام کی خدمت کی، وہ سندھ کی سیاسی تاریخ کا روشن باب ہے۔ مقبول مسیح کھوکھر نے مزید کہا کہ سلیم خورشید کھوکھر کے دورِ ایم پی اے میں حیدرآباد ڈویژن سمیت سندھ بھر میں کمیونٹی سینٹرز کی تعمیر، قبرستانوں کی چاردیواری، چرچز کی تعمیر، مرمت اور تزئین و آرائش جیسے اہم منصوبے عملی شکل اختیار کر گئے، جو آج بھی ان کی دوراندیش قیادت اور عوامی خدمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سلیم خورشید کھوکھر نے پڑھے لکھے مسیحی نوجوانوں، مرد و خواتین کو مختلف سرکاری محکموں میں روزگار کے مواقع فراہم کر کے انہیں باعزت زندگی کی راہ دکھائی، جو کسی بھی نمائندے کی اعلی سوچ اور اقلیتی حقوق سے حقیقی وابستگی کا ثبوت ہے۔آخر میں مقبول مسیح کھوکھر نے کہا کہ سلیم خورشید کھوکھر جیسے رہنما قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں، جن کی خدمات کو نہ صرف سراہا جانا چاہیے بلکہ نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ کے طور پر اجاگر بھی کیا جانا چاہیے۔ اس موقع پر موجود بوٹا امتیاز ہیومن رائٹس ڈیفینڈر و ایوارڈ یافتہ آر ٹی آئی ایکٹیوسٹ، ناصر پرویز لکھا وائس چیئرمین یوسی 135, جان گل، ولسن غوری، خالد گل ودیگر بھی موجودتھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مقبول مسیح کھوکھر نے کہا کہ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔