Express News:
2026-07-24@01:48:15 GMT

لیلۃ المبارکہ

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

خالقِ کائنات نے ارض و سماء، چاند، سورج، انسان و حیوان تخلیق کیے اور ماہ و سال کو اس لیے خلق کیا کہ انسان ساعتوں کا حساب رکھے۔ انسان کی زندگی کا ہر لمحہ قیمتی اور بارہ مہینے مختلف النوع فضیلتوں کے حامل ہیں۔ شعبان، رجب اور رمضان کے درمیان، قمری سال کا آٹھواں مہینا اور انتہائی بابرکت اور عظمت والا ہے۔ حضور اکرمؐ شعبان کو اپنا مہینہ قرار دیتے تھے، اس سے اس ماہ کی اہمیت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ اسی ماہ کی پندرہویں شب کو ’’شب برأت‘‘ یعنی نجات اور چھٹکارا پانے کی رات کہا جاتا ہے۔ برأت دراصل مغفرت طلب کرنے والوں کے لیے عذاب سے نجات کو کہا گیا ہے۔ یہ اتنی اہم رات ہے کہ اس کو لیلۃ المبارکہ اور لیلۃ الرحمۃ بھی کہا گیا ہے۔

شب برأت دراصل اس عزم و عہد کی رات ہے، جب مومن بندہ اﷲ سے مغفرت طلب کرکے گناہوں کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینے کا عزم و عہد کرتا ہے۔ یہ عہد وہ دراصل تدبر کے ساتھ پختہ ارادے پر کاربند رہتے ہوئے اﷲ کے سہارے کرتا ہے۔ اس رات میں زندہ، مردہ سب انسانوں کی فہرست تیار کی جاتی اور لوگوں کا رزق اتارا جاتا ہے۔ اسی رات کو اﷲ تعالیٰ ملک الموت کو حکم دیتا ہے کہ جن لوگوں کے نام مُردوں کی فہرست میں لکھے جاچکے ہیں ان کی وقت معین پر روح قبض کرنا، حالاں کہ وہ تمام انسان دنیاوی کاموں میں مشغول اور مگن ہوتے ہیں۔

رسول کریم ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’شعبان کا مہینہ آئے تو اپنے نفس کو رمضان کے لیے (گناہوں سے) پاک کرلو، اپنی نیّت درست کرلو، یاد رکھو! تمام مہینوں میں شعبان کی فضیلت ایسی ہے جیسی میری فضیلت تم لوگوں پر۔ خبردار ہوجاؤ۔ یہ مبارک مہینہ میرا ہے جس نے اس مہینے میں ایک بھی روزہ رکھ لیا میری شفاعت اس کے لیے حلال ہوگئی۔‘‘

آپؐ نے فرمایا: ’’بے شک تمہارا رب بڑا حیادار ہے۔ وہ شرم کرتا ہے کہ بندہ اس کی طرف دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور وہ انھیں خالی ہاتھ واپس کردے۔‘‘

آپؐ کی احادیث کے مطابق قبولیت دعا یقینی امر ہے کہ جس کے سامنے بندہ ہاتھ اٹھائے ہوئے ہے، وہ آقا و مالک رحیم بھی ہے، کریم بھی ہے اور اپنے بندوں کو کبھی بے مراد نہیں لوٹاتا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا، مفہوم : ’’اٹھو ماہ شعبان کی پندرہویں شب کو، کیوں کہ یہ رات مبارک ہے اس میں رحمت الٰہی صبح تک آسمان دنیا پر جلوہ گر ہوکر صدا دیتی ہے: ’’ ہے کوئی مغفرت کا طلب گار جو دامن بھرلے، جو بیماری سے نجات کا طلب گار ہو اور شفایاب ہو، جو آسودہ حالی کا خواہش مند ہو اور رزق میں کشادگی اور برکت سے سرفراز ہو۔‘‘

شب برأت غروب آفتاب سے شروع ہوتی اور یہ توبہ کی رات ہے۔ خطا کاروں کے لیے رحمت و عطا اور بخشش و مغفرت کی رات ہے۔ اس رات کو جاگ کر عبادت کرنا، نوافل پڑھنا اور دن کو روزہ رکھنا سنت ہے۔ کیوں کہ اس رات غروب آفتاب کے فوراً بعد اﷲ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر تجلی فرماتا اور ارشاد فرماتا ہے: ’’ہے کوئی مانگنے والا کہ ہم اسے عطا کریں، ہے کوئی گرفتار بلا کہ ہم اسے مصیبت سے عافیت اور نجات دیں۔‘‘ یہ صدائے عام صبح تک جاری رہتی ہے۔ اس رات کو اﷲ تعالیٰ کی رحمت سے صرف وہ لوگ محروم ہوتے ہیں جو شرک کرتے ہیں، جادوگر، کینہ پرور، شرابی، سود خور، بخیل، ماں باپ کے نافرمان اور قطع رحمی کرنے والے بھی محرومین میں شامل ہوتے ہیں۔

آپؐ اس ماہ مبارک میں کثرت سے روزے رکھتے تھے۔

رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ’’شعبان کے مہینے میں لوگوں کے گناہ بخشے جاتے ہیں اور اسی مہینے میں بندوں کے اعمال اﷲ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں، پس میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اﷲ کے سامنے اس حال میں پیش ہوں کہ میں روزہ دار ہوں۔‘‘

شب برأت میں اﷲ تعالیٰ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں مومن بندوں کی مغفرت فرماتا ہے۔ اس رات اﷲ کی رحمت کا دریا جوش میں آتا ہے اور وہ بہ کثرت گناہوں کو معاف فرماتا ہے اور اپنے بندوں کے لیے خیر و برکت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ اس رات کا ہر لمحہ قیمتی ہے۔ آپؐ اس ماہ میں خیر و برکت کی دعائیں کرتے اور عبادت میں اضافہ فرماتے۔

شب برأت میں اﷲ تعالیٰ کی تجلیات تمام رات اپنے بندوں کو رحمت کے جلو میں لینے کے لیے اترتی ہیں اور غروب آفتاب سے طلوع آفتاب تک یہ اعلان بارگاہ خداوندی سے ہوتا رہتا ہے کہ مانگو اور پاؤ، مغفرت، رزق، عافیت، بیماری سے شفاء، مگر شرط صرف خلوص نیّت کی ہے۔

اس رات کو اﷲ کی عبادت کے لیے مخصوص کرنا چاہیے۔ تلاوت کلام پاک، استغفار، صلوٰۃ التسبیح اور نماز تہجد ادا کی جائے۔ اس مبارک رات میں مرحومین کی مغفرت کے لیے بھی دعائیں کی جائیں۔ اس رات کا ہر لمحہ انتہائی قیمتی ہے۔ اس رات کو اپنے گناہوں پر شرمندہ ہونے، اﷲ کے سامنے ندامت کا اظہار کرنے اور مغفرت مانگنے میں صَرف کیا جائے۔ اگر کسی عذر کی بنا پر رات بھر عبادت نہ کی جاسکے تو عشاء اور فجر کی نماز باجماعت ادا کی جائے تاکہ پوری رات عبادت کا ثواب حاصل ہو۔ جو شخص اﷲ کی رحمت سے مالا مال ہونا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ شعبان المعظم میں تزکیۂ نفس، اصلاح باطن اور عبادت کا خاص خیال رکھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے فرمایا اﷲ تعالی اس رات کو کے لیے کی رات رات ہے

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!