data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد( اسٹاف رپورٹر)نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمن سواتی ، NLFسندھ کے صدر شکیل احمد شیخ ، جنرل سیکریٹری محمد عمر شر،NLFڈہری زون اور اینگرو فرٹیلائزر کنٹریکٹر وکرز یونین CBAکے صدر عبد الفتح ملک ، جنرل سیکریٹری رمضان سمیجو ، NLFڈہرکی زون کے جنرل سیکریٹری عبد الستار سیال نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اینگرو فرٹیلائزر کی موجودہ انتظامیہ کا طرز عمل محنت کشوں کے ساتھ دورہ معیار رکھتے ہوئے محنت کشوں میں تفریق پیدا کر رہی ہے جس کی وجہ سے اینگرو فرٹیلائز کنٹریکٹر ورکرز یونینCBAکے محنت کش اپنے قانونی اور جائز کم ا ز کم اجرت کے قوانین پر فیکٹری کے تمام ملازمین کو یکساں اجرت دینے کے لئے انتظامیہ سے متعدد بار میٹنگ کی لیکن انتظامیہ نے مکمل طور پر تفریق پیدا کر رکھی ہے جوائنٹ ڈائریکٹر لیبر سکھر کا کردار بھی شقوق پیدا کر رہا ہے کہ من پسند یونین کے لوگوں کو زیادہ اجرت دلوانے کی کوشش کی جا رہی تھی جسکی وجہ سے اینگرو فرٹیلائزر کنٹریکڑ ز ورکرز یونینCBAنے یکساں اجرت کے قوانین کو عمل درآمد کے لئے جوائنٹ ڈائریکٹر لیبر سکھر اور ڈائریکٹر جنرل لیبر سندھ سے کئی ملاقاتیں کی لیکن لیبر ڈیپارٹمنٹ کے افسران بھی ورکرز یونین کی جائز مطالبات کو تسلیم کرنے کے بجائے حیلہ بہانے سے تاخیری ہربے استعمال کر رہے ہیں جسکی وجہ سے اینگرو فرٹیلائزر کنٹریکٹر ورکز یونین نے محنت کشوں کے شدید احتجاج پر فیکٹری میں ہرٹال کا اعلان کردیا اور مطالبہ کیا کہ اینگرو فرٹیلائزر میں کام کرنے والے تمام محنت کشوں کو یکساں اجرت دی جائے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر میر پور ماتھیلو ، اسسٹنٹ کمشنر ڈہرکی اور پولیس کی انتظامیہ کا رویہ انتہائی شاندار اور مزدور دوست رہا جس کی وجہ سے انتظامیہ کی محنت کش دشمن پالیسیوں کی شدید سازش کو ناکام بنا دیا اور ڈھرکی کے صنعتی امن میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا اس موقع پر شکیل احمد شیخ نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا اور تمام محنت کشوں کو جنہوں نے اپنے جائز اور قانونی مطالبات کے حق میں ثابت قدمی سے یونین کا ساتھ دیا اس پر تمام محنت کش اور ضلعی انتظامیہ خراج تحسین کی مستحق ہے لیکن بد قسمتی سے لیبر ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری تھی کہ وہ اینگرو کے محنت کشوں کے معاملات کو یکساں بنیادوں پر عمل درآمد کروائیں لیکن جوائنٹ ڈائریکٹر لیبر سکھر اور ڈائریکٹر جنرل لیبر سندھ جائز اور بہتر اقدام کرنے میں ناکام رہے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اینگرو فرٹیلائزر کی وجہ سے

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم