شہداء قوم کے ماتھے کا جھومر اور تاریخ کا روشن باب ہیں، ارشد کاظمی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر )تحریک اہلسنّت پاکستان صوبہ سندھ کے صدر پیر سید ارشد علی کاظمی القادری نے بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز اور ملک دشمن عناصر کے مکمل خاتمے کے لیے افواجِ پاکستان کی جرأت مندانہ، پیشہ ورانہ اور مؤثر کارروائیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج نے ایک بار پھر عملی طور پر ثابت کر دیا ہے کہ وطنِ عزیز کا تحفظ، عوام کے جان و مال کا دفاع اور ملک میں قیامِ امن ان کے لیے جانوں سے بڑھ کر عزیز ہے۔پیر سید ارشد علی کاظمی القادری نے اپنے بیان میں کہا کہ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ واقعات کے بعد پاک فوج، فرنٹیئر کور اور دیگر سکیورٹی اداروں نے جس دلیری، اعلیٰ حکمتِ عملی اور بھرپور قومی جذبے کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کیا ہے وہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشوار گزار پہاڑی علاقوں، سخت موسمی حالات اور جان لیوا خطرات کے باوجود افواجِ پاکستان کے افسران اور جوانوں نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا کر یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ پاکستان کے امن و سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواجِ پاکستان کے شہداء کی عظیم قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں، یہ شہداء قوم کے ماتھے کا جھومر اور ہماری تاریخ کا روشن باب ہیں، انہی قربانیوں کی بدولت آج پاکستان امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔