اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ غلط طریقے سے برطرفی کے بعد بحال ہونے والا سرکاری ملازم سروس سے باہر رہنے والی مدت کے لیے مکمل تنخواہ اور مراعات کا حقدار ہے۔

جسٹس وحید کی سربراہی میں5 رکنی بینچ نے 13 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ یہ بنیادئ یاور عام اصول ہے کہ جب برطرفی غلط ثابت ہو تو مالی معاوضہ صوابدیدی نہیں ہے، ایسے سرکاری ملازم کو  مکمل تنخواہ دی جانی چاہیے۔

حکم نامے میں وضاحت کی گئی کہ یہ ہدایت بنیادی طور پر سرکاری ملازم کو اس کی اصل معاشی حالت میں بحال کرنے کے بنیادی مقصد کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔

مزید پڑھیں

عوام ایس ایچ او کے نوکر نہیں، درخواست میں بخدمت نہیں لکھا جائے، سپریم کورٹ

عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ غلط طریقے سے برطرفی محض انتظامی غلطی نہیں بلکہ آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ غلط طریقے سے ملازمت سے برطرفی کے معاملات میں ناانصافی کی ذمہ داری اتھارٹی پر عائد ہوتی ہے اوراس کا خمیازہ سرکاری ملازم کو بھگتنا پڑتا ہے جسے آئینی اذیت کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ 

کیونکہ اس کے نتیجے میں ایک سرکاری ملازم  اپنے ذریعہ معاش سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہ محرومی براہ راست آئین کے آرٹیکل 9 سے منسلک ہے جو زندگی کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سرکاری ملازم

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ