اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ غلط طریقے سے برطرفی کے بعد بحال ہونے والا سرکاری ملازم سروس سے باہر رہنے والی مدت کے لیے مکمل تنخواہ اور مراعات کا حقدار ہے۔

جسٹس وحید کی سربراہی میں5 رکنی بینچ نے 13 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ یہ بنیادئ یاور عام اصول ہے کہ جب برطرفی غلط ثابت ہو تو مالی معاوضہ صوابدیدی نہیں ہے، ایسے سرکاری ملازم کو  مکمل تنخواہ دی جانی چاہیے۔

حکم نامے میں وضاحت کی گئی کہ یہ ہدایت بنیادی طور پر سرکاری ملازم کو اس کی اصل معاشی حالت میں بحال کرنے کے بنیادی مقصد کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔

مزید پڑھیں

عوام ایس ایچ او کے نوکر نہیں، درخواست میں بخدمت نہیں لکھا جائے، سپریم کورٹ

عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ غلط طریقے سے برطرفی محض انتظامی غلطی نہیں بلکہ آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ غلط طریقے سے ملازمت سے برطرفی کے معاملات میں ناانصافی کی ذمہ داری اتھارٹی پر عائد ہوتی ہے اوراس کا خمیازہ سرکاری ملازم کو بھگتنا پڑتا ہے جسے آئینی اذیت کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ 

کیونکہ اس کے نتیجے میں ایک سرکاری ملازم  اپنے ذریعہ معاش سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہ محرومی براہ راست آئین کے آرٹیکل 9 سے منسلک ہے جو زندگی کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سرکاری ملازم

پڑھیں:

توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔

دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔

اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔

کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع