سندھ پبلک سروس کمیشن نے مشترکہ مقابلہ جاتی امتحان 2023 کے حتمی نتائج کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
کراچی:
سندھ پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی) نے مشترکہ مقابلہ جاتی امتحان (سی سی ای) 2023 کے حتمی نتائج کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت صوبائی محکموں کی گریڈ 17 اور گریڈ 16 کی مختلف آسامیوں کے لیے 152 امیدواروں کی تقرری کی سفارش کی گئی ہے۔
کمیشن کے اعلامیے کے مطابق پرووینشل مینجمنٹ سروس (پی ایم ایس) گریڈ 17 کے لیے 31 جبکہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) کے لیے 30 امیدواروں کے ناموں کی سفارش کی گئی ہے۔
اسی طرح اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن گریڈ 17 کے لیے ایک، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیبر کے لیے دو اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ بلدیات کے لیے 46 امیدوار منتخب کیے گئے ہیں۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اسسٹنٹ رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز گریڈ 17 کے لیے 5 امیدواروں کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ گریڈ 16 کی اسامیوں میں مختیارکار کے لیے 30، ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر کے لیے ایک اور لیبر آفیسر کے لیے 6 امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں۔
کمیشن کے مطابق خواتین امیدواروں میں سے پرووینشل مینجمنٹ سروس کے لیے 7 جبکہ ڈی ایس پی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کے لیے ایک، ایک خاتون امیدوار کے ناموں کی سفارش کی گئی ہے۔
سندھ پبلک سروس کمیشن کی وزیراعلیٰ کو 18 ہزار سے زائد تقرریوں کی سفارش
ایس پی ایس سی کے مطابق سی سی ای 2023 کے پہلے مرحلے میں اگست 2024 میں اسکریننگ ٹیسٹ منعقد کیے گئے، جن میں 14 ہزار 588 امیدوار شریک ہوئے، جن میں سے 2 ہزار 32 کامیاب قرار پائے۔
بعد ازاں اپریل 2025 میں ہونے والے تحریری امتحانات میں مجموعی طور پر 597 امیدوار کامیاب ہوئے۔
تحریری امتحان میں کامیاب امیدواروں کے انٹرویوز اکتوبر 2025 سے شروع ہو کر رواں سال جنوری تک جاری رہے۔
انٹرویوز کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد حتمی نتائج جاری کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو تقرری کی سفارشات ارسال کر دی گئی ہیں۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ نتائج کی تیاری میں مرد، خواتین، شہری و دیہی کوٹہ سمیت سندھ میں رائج تمام آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل کی سفارش کی گئی ہے اسسٹنٹ ڈائریکٹر گریڈ 17 کے لیے ایس پی
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔