وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا قبائل کے ہمراہ اسلام آباد مارچ کا اعلان، مقصد کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے آبائی ضلع خیبر میں قبائلی مسائل کے حل کے لیے سیاسی حریف وفاقی حکومت کے ساتھ بیٹھنے کا اعلان کیا ہے، وہیں قبائل کو لے کر اسلام آباد مارچ کا بھی عندیہ دیا ہے۔
قبائلی جرگے سے اپنے جذباتی خطاب میں سہیل آفریدی نے وفاق کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ قبائل کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے، اسی جرگے میں وزیراعظم سے ملاقات کے اعلان کے مطابق گزشتہ روز یعنی پیر کو اسلام آباد میں وزیراعظم سے ملاقات بھی کی۔
’اسلام آباد مارچ کے لیے قبائل کا دورہ کروں گا‘سہیل آفریدی نے کہا کہ قبائلی مسائل اور تیراہ آپریشن پر قبائلی اقوام کے شدید تحفظات ہیں، اور اسی پر تمام قبائلی علاقوں میں جا کر جرگے کیے جائیں گے تاکہ اسلام آباد مارچ کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔
’آپ کے حقوق کے لیے میں آپ سب کو لے کر اسلام آباد جانے کے لیے لائحہ عمل بناؤں گا۔‘
سہیل آفریدی چاہتے کیا ہیں؟تجزیہ کاروں اور سیاست پر گہری نظر رکھنے والے صحافیوں کے مطابق سہیل آفریدی سیاسی کھیل کے ذریعے وفاق اور مقتدر حلقوں پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں، ان کے مطابق اس وقت پی ٹی آئی کی سیاست شدید کنفیوژن کا شکار ہے اور سہیل آفریدی ایک نہیں بلکہ کئی محاذوں پر الجھے ہوئے ہیں۔
پشاور میں ایک نجی ٹی وی چینل کے بیورو چیف سینیئر صحافی طارق وحید سمجھتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جارحانہ سیاست اور رویّوں کے باعث پی ٹی آئی کی سیاست میں کنفیوژن موجود ہے اور اس کمزوری کے ساتھ وفاقی حکومت بھی کھیل رہی ہے، ساتھ ہی صوبائی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی
طارق وحید کے مطابق موجودہ صورتحال میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ایک یا 2 نہیں بلکہ 3 راہوں پر کھڑے ہیں، ایک طرف اپنے قائد عمران خان کی رہائی کی تحریک کا دباؤ، دوسرا دہشت گردی اور تیراہ کے مبینہ آپریشن کا چیلنج، اور تیسرا صوبے میں گورننس کا دباؤ، لہذا ایسے میں وزیراعلیٰ کی کنفیوژن غیر متوقع نہیں۔
’خاص طور پر تیراہ آپریشن سے پیدا شدہ صورتحال پر وفاقی حکومت اور مقتدر حلقوں کے دباؤ کو باؤنس بیک کرنے کے لیے اب وہ اس معاملے کو سیاسی اہداف اور وفاق پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور اسلام آباد مارچ کا اعلان یا اشارہ بھی اسی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔‘
’وفاق تیراہ نقل مکانی کی ذمہ داری قبول کرے‘ضلع خیبر کے جرگے میں موجود نوجوان صحافی عبدالقیوم آفریدی کے مطابق وزیراعلیٰ کی وزیراعظم سے ملاقات سیاسی نہیں بلکہ صوبائی امور سے متعلق تھی، وزیراعلیٰ نے جرگے میں ریلیف فنڈ بنانے کا اعلان کیا اور مزمل اسلم کے ہمراہ شہباز شریف سے ملاقات کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ بات معاشی امور پر ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی ایشوز پر سہیل آفریدی نے مزید جرگوں اور قبائلی علاقوں کے دوروں کا بھی اعلان کیا ہے، جس کے بعد اسلام آباد مارچ کی حکمت عملی بنائی جائے گی۔ ’تیراہ نقل مکانی پر وزیراعلیٰ دباؤ میں ہیں کیونکہ یہ ان کا آبائی علاقہ ہے، جس سے ان کی بدنامی بھی ہو رہی ہے۔‘
مزید پڑھیں: تیراہ میں آپریشن جیسا حساس معاملہ وفاق پر ڈالنا گمراہ کن حکمت عملی ہے، اپوزیشن لیڈر خیبرپختونخوا اسمبلی
انہوں نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی نے تیراہ نقل مکانی پر وفاق سے معافی کا مطالبہ بھی کیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ جرگہ کر کے متاثرین کو واپس لایا جائے گا۔ ’وفاق نے اس معاملے کی تمام تر ذمہ داری سہیل آفریدی کی حکومت پر ڈال دی ہے۔‘
ان کے مطابق سہیل آفریدی اب تیراہ معاملے پر سیاست کرنا چاہتے ہیں اور وفاق اور اداروں پر دباؤ ڈال کر اپنے مطالبات منوانا چاہتے ہیں۔
’وزیراعلیٰ قبائل کی حمایت چاہتے ہیں‘خیبر جرگے میں اس وقت واپس جانے کے سوال پر نفی میں جواب آیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بے گھر افراد کی جلد واپسی کے امکانات کم ہیں، صحافی قیوم آفریدی کے مطابق وزیراعلیٰ کو بھی اندازہ ہے کہ نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی فی الحال ممکن نہیں، جبکہ ان کے انتظامات بھی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہیں۔
مزید پڑھیں: گورنر خیبرپختونخوا نے وادی تیراہ سے عارضی انخلا کی صورتحال بارے قائم مقام صدر کو آگاہ کیا
’اسی وجہ سے وہ قبائل کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وفاق کے خلاف دباؤ پیدا کیا جا سکے، سہیل آفریدی نے وفاق کے خلاف محاذ کھول دیا ہے، اسٹریٹ موومنٹ اور قبائلی جرگے ایک طرف پارٹی ورکرز کو فعال کر رہے ہیں اور دوسری طرف قبائل کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی خود بھی قبائل سے تعلق رکھتے ہیں، اور انھیں اندازہ ہے کہ اگر قبائل کی حمایت حاصل ہو گئی تو احتجاج کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام اباد جرگہ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی مارچ وزیر اعلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد جرگہ خیبر پختونخوا سہیل ا فریدی وزیر اعلی اسلام آباد مارچ سہیل آفریدی نے قبائل کی حمایت سے ملاقات چاہتے ہیں نقل مکانی کے مطابق کا اعلان جرگے میں کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کے اختتام پر شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں عالمی فٹبال کے کئی نامور ستاروں کو پورے ایونٹ میں بہترین کھیل کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منتخب ٹیم میں ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی، فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے اور ناروے کے اسٹار اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ کو فرنٹ لائن کا حصہ بنایا گیا ہے۔
مڈفیلڈ میں ورلڈ کپ کے گولڈن بال کے فاتح اور اسپین کے کپتان روڈری ، انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم اور فرانس کے مائیکل اولیسے کو جگہ دی گئی ہے، جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
دفاعی لائن میں کیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا کو منتخب کیا گیا ہے، جبکہ اسپین کے عالمی چیمپئن مارک کوکوریلا اور پیڈرو پورو ، فرانس کے ڈایو اوپامیکانو اور ارجنٹائن کے لیساندرو مارٹینیز بھی دفاع کا حصہ ہیں۔
فیفا کے مطابق ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا انتخاب کھلاڑیوں کی مجموعی کارکردگی، ٹیم پر اثراندازی اور پورے ایونٹ کے دوران مستقل بہترین کھیل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
دوسری جانب فیفا نے ورلڈ کپ کے اختتام پر نئی عالمی رینکنگ بھی جاری کر دی ہے۔ نئی عالمی چیمپئن اسپین ایک درجہ ترقی کے بعد دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن گئی، جبکہ رنر اپ ارجنٹائن ایک درجہ تنزلی کے بعد دوسرے نمبر پر چلی گئی۔
رینکنگ میں فرانس تیسرے اور انگلینڈ چوتھے نمبر پر برقرار ہیں، جبکہ برازیل اور مراکش ایک، ایک درجہ ترقی کے ساتھ بالترتیب پانچویں اور چھٹے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔
ادھر کرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال دو درجے تنزلی کے بعد ساتویں نمبر پر آ گئی، جبکہ میزبان میکسیکو نے ورلڈ کپ میں عمدہ کارکردگی کی بدولت چار درجے ترقی کرکے ٹاپ ٹین میں جگہ بنا لی۔
ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ناروے کی ٹیم نے بھی نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے 12 درجے ترقی کی اور عالمی رینکنگ میں 19ویں پوزیشن حاصل کر لی۔