وزیر اعظم آفس کی منظوری سے پیپر ملبری کے درختوں کی کٹائی کی ، سی ڈی اے کا جواب سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
وزیر اعظم آفس کی منظوری سے پیپر ملبری کے درختوں کی کٹائی کی ، سی ڈی اے کا جواب سامنے آگیا WhatsAppFacebookTwitter 0 3 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیپر ملبری درختوں کی کٹائی کے حوالے سے کیس میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے چھ صفحات پر مشتمل جواب جمع کروا دیا ہے۔
سی ڈی اے کے مطابق، 2022 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت پر ماحولیات کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی سمیت دیگر متعلقہ ادارے شامل تھے۔ کمیٹی نے 2023 میں پولن الرجی کے پھیلاؤ کو روکنے اور پیپر ملبری درختوں کی کٹائی کی ضرورت سے متعلق میٹنگز اور پبلک ہئیرنگز بھی منعقد کیں۔
سی ڈی اے نے بتایا کہ پولن الرجی کے خاتمے کے حوالے سے سائنسی تحقیق موجود ہے اور صحافی سلیم صافی نے 2024 میں اس موضوع پر آرٹیکل بھی شائع کیا۔ اس کے بعد وزیر اعظم آفس نے نوٹس لے کر سی ڈی اے کو اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔
سی ڈی اے کا موقف ہے کہ پیپر ملبری درختوں کی کٹائی جلد بازی میں نہیں بلکہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں، تحقیق اور میٹنگز کے بعد وزیر اعظم آفس کی منظوری سے کی گئی۔ کٹے گئے درختوں کی جگہ ماحول دوست نئے درخت لگا دیے گئے ہیں۔
سی ڈی اے نے مزید کہا کہ درختوں کی کٹائی کے معاملات شفاف ٹینڈر کے تحت ہوتے ہیں اور اگر کوئی متاثر فریق ہو تو عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔ اسلام آباد ہائی وے کے ساتھ بھی 2022 میں پیپر ملبری درختوں کی کٹائی کی گئی تھی، اور معرکہ حق یادگار کے پروجیکٹ کے لیے زمین پلاننگ منسٹری کو منتقل کی گئی تھی۔ اس جگہ سے درخت شکر پڑیاں سمیت دیگر مقامات پر منتقل کیے گئے۔
سی ڈی اے نے ہائی کورٹ سے درخواست کی ہے کہ درختوں کی کٹائی روکنے کی درخواست مسترد کی جائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرڈی جی ایف آئی اے تبدیل،عثمان انور ڈی جی ایف آئی اے تعینات ، نوٹیفیکیشن سب نیوز پر ڈی جی ایف آئی اے تبدیل،عثمان انور ڈی جی ایف آئی اے تعینات ، نوٹیفیکیشن سب نیوز پر شیطان نہیں ہوں، پاکستان اور بھارت میں انسداد پولیو کیلئے فنڈز دیے تھے:جیفری ایپسٹین برطانیہ کا ایران پر نیا وار، 10 شخصیات اور ایک ادارہ پر نئی پابندیاں لگادیں دکانداروں نے گاہکوں کو باہر نکلنے سے روکا، سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات میں اہم انکشافات آئینی عدالت کی پسند کی شادی کرنے والی خاتون کو شوہر کیساتھ جانے کی اجازت وفاقی آئینی عدالت نے کوئٹہ بلدیاتی انتخابات و حلقہ بندیوں سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: درختوں کی کٹائی کی پیپر ملبری سی ڈی اے
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔