گواہوں کو دباؤ میں لانے کیلیے جرح انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے، سپریم کورٹ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایک اہم اور رہنما اصولوں پر مبنی فیصلے میں واضح کیا ہے کہ جرح کے عمل کو گواہوں کو ہراساں کرنے، تضحیک کا نشانہ بنانے یا غیر متعلقہ سوالات کے ذریعے دباؤ میں لانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ جرح کا حق اگرچہ فریقین کو حاصل ہے، تاہم یہ حق نہ تو لامحدود ہے اور نہ ہی بے لگام، بلکہ اسے انصاف کے تقاضوں اور عدالتی نظم و ضبط کے دائرے میں رہ کر استعمال کیا جانا لازم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو قانون کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالتیں اس بات کی پابند ہیں کہ وہ گواہوں کو غیر ضروری ذہنی دباؤ، طویل اور بے مقصد جرح، یا تضحیک آمیز رویے سے محفوظ رکھیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر جرح انصاف کے بجائے ہراسانی کا ذریعہ بن جائے تو ٹرائل کورٹ کو مکمل قانونی اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے عمل کو محدود کرے یا مکمل طور پر ختم کر دے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں نشاندہی کی کہ ٹرائل کورٹ نے مقدمے کے دوران یہ مشاہدہ کیا تھا کہ مزید جرح نہ صرف غیر ضروری ہو چکی ہے بلکہ غیر متعلقہ سوالات اور گواہ کو ذہنی طور پر تھکانے کے مترادف بھی ہے۔ اسی بنیاد پر ٹرائل کورٹ نے مدعا علیہ کا مزید جرح کا حق ختم کر دیا تھا، جسے بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اس کے خلاف دائر اپیل کو مسترد کر دیا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ گواہوں کو طویل جرح کے ذریعے اس حد تک تھکا دینا کہ وہ غلطی کرنے پر مجبور ہو جائیں، انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔ عدالت نے اس امر پر زور دیا کہ عدالتی ریکارڈ کی درستگی کے حوالے سے ایک مضبوط قانونی مفروضہ موجود ہوتا ہے، جسے محض بے جا شکوک یا غیر متعلقہ سوالات کے ذریعے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ کو سول پروسیجر کوڈ کے سیکشن 151 کے تحت کارروائی کو منظم رکھنے اور عدالتی عمل کو بے جا طوالت سے بچانے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ اس اختیار کا مقصد انصاف کی فراہمی کو مؤثر بنانا ہے، نہ کہ کسی فریق کے حقوق سلب کرنا۔
یہ مقدمہ لاہور کے علاقے موہلنوال میں واقع 53 کنال اور 3 مرلہ اراضی سے متعلق تھا، جس میں مدعی بطور گواہ پیش ہوا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق صرف دو ماہ کے عرصے میں سات سماعتوں کے دوران گواہ پر 30 صفحات پر مشتمل جرح کی جا چکی تھی۔
تفصیلی تحریری فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن نے جاری کیا، جسے قانونی ماہرین گواہوں کے تحفظ، جرح کی حدود اور ٹرائل کورٹس کے اختیارات کے حوالے سے ایک اہم نظیر قرار دے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ گواہوں کو انصاف کے کورٹ نے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔